کتاب: وسیلہ کی شرعی حیثیت - صفحہ 159
3.سعید بن ابی عروبہ ’’مدلس‘‘ اور’’ مختلط‘‘ ہیں ۔ 4.حافظ ابنِ حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں : حَدِیثٌ غَرِیبٌ أَخْرَجَہُ ابْنُ السُّنِّيُّ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِي السَّنَدِ انْقِطَاعٌ بَیْنَ ابْنِ بُرَیْدَۃَ وَابْنِ مَسْعُودٍ ۔ ’’یہ غریب حدیث ہے، اسے ابن السنی اور طبرانی نے بیان کیا ہے، سند میں ابنِ بریدہ اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے درمیان انقطاع ہے۔‘‘ (شرح الأذکار لابن علان : 5/150) ابن السنی کی سند میں ابنِ بریدہ اور سیدنا ابنِ مسعود رضی اللہ عنہ کے درمیان عَنْ أَبِیہِ کا واسطہ ہے، یہ ناسخ کی غلطی ہے، حافظ ابنِ حجر رحمہ اللہ نے اس سند کو منقطع قرار دیا ہے ، دوسرے یہ کہ یہی سند مسند ابی یعلی کی بھی ہے، لیکن مسند ابی یعلی میں بھی یہ واسطہ مذکور نہیں ، لہٰذا اس کامنقطع ہونا واضح ہے ۔ علامہ بوصیری رحمہ اللہ کہتے ہیں : سَنَدُہٗ ضَعِیفٌ لِّضُعْفِ مَعْرُوفِ ابْنِ حَسَّانٍ ۔ ’’اس کی سند معروف بن حسان کی وجہ سے ضعیف ہے۔ ‘‘ (اتّحاف الخِیَرۃ المَھَرۃ : 7/500) حافظ سخاوی رحمہ اللہ لکھتے ہیں : سَنَدُہٗ ضَعِیفٌ، لٰکِنْ قَالَ النَّوَوِيُّ : إِنَّہٗ جَرَّبَہٗ ھُوَ وَبَعْضُ أَکَابِرِ شُیُوخِہٖ ۔