کتاب: وسیلہ کی شرعی حیثیت - صفحہ 154
وہب سے مروی روایات میں خرابی ہے۔‘‘ (تقریب التّھذیب : 2739) نیز فرماتے ہیں : رَوٰی عَنْہُ ابْنُ وَھْبٍ أَحَادِیثَ مَنَاکِیرَ، فَکَأَنَّہٗ لَمَّا قَدِمَ مِصْرَ، حَدَّثَ مِنْ حِفْظِہٖ، فَغَلِطَ ۔ ’’اس سے ابن وہب نے منکر احادیث بیان کی ہیں ، لگتا ہے مصر آنے کے بعد حافظے سے روایات بیان کرنے لگا تھا اور غلطیاں کرنے لگا۔‘‘ (ھُدَی السّاري، ص 409) یہ روایت بھی شبیب بن سعید سے عبداللہ بن وہب مصری بیان کر رہے ہیں ۔ یہ جرح مُفَسَّر ہے، لہٰذا روایت ’’ضعیف‘‘ اور ’’منکر‘‘ ہے۔ اس کی وجہ یہ ہوئی کہ شبیب بن سعید جب مصر گیا، توو ہاں اس نے اپنے حافظہ سے احادیث بیان کیں ، جن میں وہ غلطی اور وہم کا شکار ہو گیا۔ اعتراض: شبیب بن سعید ابو سعید بصری کی روایت صحیح بخاری میں بھی ہے۔ جواب: حافظ ابن حجر رحمہ اللہ( 852ھ)لکھتے ہیں أَخْرَجَ الْبُخَارِيُّ مِنْ رِّوَایَۃِ ابْنِہٖ (أَحْمَدَ) عَنْ یُّونُسَ (بْنِ یَزِیدٍ الْـأَیْلِيِّ) أَحَادِیثَ، لَمْ یَخَرِّجْ مِنْ رِّوَایَتِہٖ عَنْ غَیْرِ