کتاب: وسیلہ کی شرعی حیثیت - صفحہ 149
دلیل نمبر 6 سیدنا عثمان بن حُنَیف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک نابینا صحابی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض گزار ہوئے : آقا! آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ مجھے شفا دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اگر آپ چاہیں تو دعا کر دیتا ہوں اور اگر چاہیں تو صبر کر لیں ، وہ آپ کے لیے بہتر ہو گا۔ عرض کیا:آپ میرے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا ہی کر دیں ۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اچھی طرح سنوار کر وضو کرنے اور پھر دو رکعتیں پڑھ کر یہ دعا کرنے کا حکم دیا: أَللّٰھُمّ! إِنِّي أَسْئَلُکَ وَأَتَوَجَّہُ إِلَیْکَ بِنَبِیِّي مُحَمَّدٍ نَّبِیِّ الرَّحْمَۃِ، یَا مُحَمَّدُ! إِنِّي أَتَوَجَّہُ بِکَ إِلٰی رَبِّکَ أَنْ یَّکْشِفَ لِي عَنْ بَصَرِي ، أَللّٰھُمَّ! شَفِّعْہُ فِيَّ وَشَفِّعْنِي فِي نَفْسِي ۔ ’’اللہ!میں تجھ سے نبی رحمت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کے وسیلے سے سوال کرتا ہوں ، اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! میں آپ کی دعا کے وسیلے سے اللہ سے سوال کرتا ہوں کہ وہ میری نظر لوٹا دے،یا اللہ !تو میرے بارے میں اپنے نبی کی اور میری سفارش قبول فرما۔‘‘ واپس آئے، تو اللہ تعالیٰ نے ان کی بینائی لوٹا دی تھی ۔‘‘ (مسند أحمد : 4/138، سنن الترمذي : 3578، عمل الیوم واللّیلۃ للنّسائي : 659، سنن ابن ماجہ : 1385، مسند عبد بن حمید : 379، وسندہٗ حسنٌ) اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے ’’حسن صحیح غریب‘‘ اور امام ابن خزیمہ (1219) نے ’’صحیح‘‘ کہا ہے۔ امام ابن ماجہ رحمہ اللہ کہتے ہیں :ابو اسحاق نے کہا ہے کہ