کتاب: وسیلہ کی شرعی حیثیت - صفحہ 125
میں نماز کے لیے پیدل چلنے والے شخص کی دعا یوں ذکر کی گئی ہے کہ یا اللہ!میں اپنے اس پیدل چلنے کے صدقے اور سوالیوں کے تجھ پر موجود حق کے طفیل سوال کرتا ہوں ۔۔ تو اس سے مراد سوالیوں کا وہ حق ہے جو اللہ تعالیٰ نے خود اپنے اوپر لازم کیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے خود سوالیوں کی دعا قبول کرنے اور عبادت گزاروں کو ثواب عطا فرمانے کا حق تسلیم کیا ہے۔کسی عرب شاعر نے خوب کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ پر بندوں کا کوئی حق نہیں ۔اللہ تعالیٰ کے ہاں کوئی کاوش رائیگاں نہیں ہوتی۔اگر اللہ بندوں کو عذاب دے تو یہ اس کا عدل ہے اور اگر وہ انہیں نعمتوں سے نوازے تو یہ اس کا فضل ہے۔وہ کریم اور سمیع ہے۔۔۔ اگر کوئی یہ سوال کرے کہ سوالیوں کے حق کے طفیل دعا کرنے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور دیگر صالحین کے طفیل دعا کرنے میں کیا فرق ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ بِحَقِّ السَّائِلِینَ عَلَیْکَ کے الفاظ سے دعا کرنے والا کہتا ہے کہ یا اللہ!تو نے مانگنے والوں سے دعا کی قبولیت کا وعدہ فرمایا ہے۔ میں بھی سوالی ہوں لہٰذا تُو میری دُعا قبول فرما لے۔ بِحَقِّ فُلَانٍ کے الفاظ اس کے برعکس ہیں ۔ اگرچہ اللہ تعالیٰ کے سچے وعدے کے مطابق بندوں کے لیے (نصرت وغیرہ کا)حق ہوتا ہے لیکن اس حق کا کسی بندے کی دعا کی قبولیت سے کیا تعلق؟ گویا یہ کہا جاتاہے یااللہ!فلاں شخص تیرا نیک بندہ ہے ،لہٰذا میری دُعا قبول فرما لے۔ بھلا ان دونوں باتوں کی آپس میں کیا