کتاب: وسیلہ کی شرعی حیثیت - صفحہ 112
أَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ : ﴿وَکانُوا مِنْ قَبْلُ یَسْتَفْتِحُونَ عَلَی الَّذِینَ کَفَرُوا فَلَمَّا جائَ ہُمْ …﴾ ’’ہمارے اساتذہ (صحابہ کرام)نے ہمیں بتایا کہ عرب میں ہم سے بڑھ کر کوئی بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہستی کونہیں جانتاتھا۔ ہمارے ساتھ یہود رہتے تھے۔ وہ اہل کتاب تھے اور ہم بت پرست۔ جب انہیں ہم سے کوئی تکلیف پہنچتی، تو وہ کہتے : ایک نبی، جس کی بعثت کا وقت ہوا چاہتا ہے، ہم اس کا اتباع کریں گے، اس کے ساتھ مل کر تم سے لڑیں گے اور تمہیں یوں ہلاک کر دیں گے، جیسے عاد اور ارم ہلاک ہوئے تھے۔ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول(محمد صلی اللہ علیہ وسلم )کو مبعوث فرمایا، تو ہم نے آپ کا اتباع کر لیا اور انہوں نے کفر کا راستہ اختیار کیا۔ اللہ کی قسم، ہمارے اور یہود کے بارے میں یہ آیت ِکریمہ نازل ہوئی : ﴿وَکَانُوا مِنْ قَبْلُ یَسْتَفْتِحُونَ عَلَی الَّذِینَ کَفَرُوا فَلَمَّا جَائَ ہُمْ…﴾(البقرۃ : 89) ’’یہود اس سے قبل کافروں پر فتح کی دُعا کیا کرتے تھے۔ جب ان کے پاس وہ نبی آگئے جنہیں وہ خوب پہچانتے تھے، تو انہوں نے ان کے ساتھ کفر کیا…۔‘‘ (سیرۃ ابن إسحاق، ص 84، دلائل النُّبُوّۃ للبیھقي : 2/75، وسندہٗ حسنٌ) سورت بقرہ آیت نمبر 118کی تشریح میں مفتی نعیمی صاحب مزید لکھتے ہیں :