کتاب: وسیلہ کی شرعی حیثیت - صفحہ 103
وَسَلَّمَ الشَّفَاعَۃَ، فَیَقُولُ : یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَسْأَلُکَ الشَّفَاعَۃَ، یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَسْأَلُکَ الشَّفَاعَۃَ وَأَتَوَسَّلُ بِکَ إلَی اللّٰہِ فِي أَنْ أَمُوتَ مُسْلِمًا عَلٰی مِلَّتِکَ وَسُنَّتِکَ، وَیَذْکُرُ کُلَّ مَا کَانَ مِنْ قَبِیلِ الِْاسْتِعْطَافِ وَالرِّفْقِ بِہٖ ۔ ’’دعا میں اللہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کا وسیلہ پیش کرے …پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے شفاعت کا مطالبہ کرے اورکہے: اللہ کے رسول!میں آپ سے شفاعت کا سوال کرتا ہوں ، یا رسول اللہ!میں آپ سے شفاعت کا سوالی ہوں اور اللہ تعالیٰ کو آپ کا وسیلہ دیتا ہوں کہ مجھے اسلام کی حالت میں آپ کی ملت اور سنت پر موت آئے۔اسی طرح وہ تمام باتیں کرے جو رحم طلبی اور نرمی سے تعلق رکھتی ہوں ۔‘‘ (فَتح القدیر : 2/338) یہی بات فتاویٰ عالمگیری (1/82)میں بھی ہے ۔ حضرات دیوبند اور ممنوع توسل: مہند میں ہے: ’’تیسرا اور چوتھا سوال:کیا وفات کے بعد جناب ِرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا توسل لینا دعاوں میں جائز ہے یا نہیں ؟ تمہارے نزدیک سلف صالحین، یعنی انبیا، صدیقین اور شہدا واولیا کا توسل بھی جائز ہے یا نا جائز؟ جواب : ہمارے نزدیک اور ہمارے مشائخ کے نزدیک دعاوں میں انبیا