کتاب: والدین کا احتساب - صفحہ 94
ہے؟‘‘ آپ نے فرمایا:’’بلکہ تمہارا حقیقی رب تو وہ ہے جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے، جس نے انہیں پیدا کیا، اور میں اس بات کی گواہی دینے والوں میں سے ہوں۔اور اللہ کی قسم ! میں تمہارے جانے کے بعد تمہارے ان معبودوں کے ساتھ ایک چال ضرور چلوں گا۔‘‘ پس انہوں نے ان سب کے ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے، البتہ بڑے بت کو چھوڑ دیا تاکہ وہ اس کی طرف متوجہ ہوں] تفسیر ِ آیتِ کریمہ: شیخ ابن عاشور ؒ نے آیت کریمہ{وَتَاللّٰہِ لَأَکِیْدَنَّ أَصْنَامَکُمْ بَعْدَ أَنْ تُوَلُّوْا مُدْبِرِیْنَ } کی تفسیر میں لکھا ہے: ’’ثُمَّ انْتَقَلَ إِبْرَاہِیْمَ علیہ السلام مِنْ تَغْیِیْرِ الْمُنْکَرِ بِالْقَوْمِ إِلٰی تَغْیِیْرِہِ بِالْیَدِ مُعْلِنًا عَزْمَہُ عَلَی ذٰلِکَ بِقَوْلِہِ:{وَتَاللّٰہِ لَأَکِیْدَنَّ أَصْنٰمَکُمْ بَعْدَ أَنْ تُوَلُّوْا مُدْبِرِیْنَ} مُؤَکَّدًا عَزْمَہُ بِالْقَسَمِ۔‘‘ [1] ’’پھر وہ زبان کے ساتھ برائی کو ختم کرنے کی کوشش کے بعد، اس کو ہاتھ کے ذریعے بدلنے کی خاطر اپنے اس عزم کا اظہار کرتے ہوئے منتقل ہوئے {وَتَاللّٰہِ لَأَکِیْدَنَّ أَصْنَامَکُمْ بَعْدَ أَنْ تُوَلُّوْا مُدْبِرِیْنَ } [ترجمہ:اللہ تعالیٰ کی قسم ! میں تمہارے چلے جانے کے بعد تمہارے بتوں کے ساتھ ایک چال ضرور چلوں گا]‘‘ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اس طرز عمل سے مذکورہ بالا سوال کا جواب حاصل کرنے میں راہ نمائی میسر آتی ہے۔ [1] تفسیر التحریر والتنویر ۱۷/۹۷۔