کتاب: والدین کا احتساب - صفحہ 69
۱:والدین کے ادب واحترام کا حکمِ ربانی: اللہ تعالیٰ نے والدین کے ادب واحترام کے متعلق شدید تاکید کی ہے۔قرآن کریم کے دو مقامات سے آیاتِ کریمہ ذیل میں ملاحظہ فرمائیے: ا: اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: {وَقَضٰی رَبُّکَ أَلاَّ تَعْبُدُوٓا إِلآّ إِیَّاہُ وَبِالْوَالِدَیْنِ إِحْسَانًا إِمَّا یَبْلُغَنَّ عِنْدَکَ الْکِبَرَ أَحَدُہُمَآ أَوْ کِلاَہُمَا فَلاَ تَقُلْ لَّہُمَآ أُفٍّ وَلاَ تَنْہَرْہُمَا وَقُلْ لَّہُمَا قَوْلاً کَرِیْمًا۔وَاخْفِضْ لَہُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَۃِ وَقُلْ رَّبِّ ارْحَمْہُمَا کَمَا رَبَّیَانِی صَغِیْرًا } [1] [ترجمہ:اور آپ کا رب صاف صاف حکم دے چکا ہے کہ تم اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرنا، اور والدین کے ساتھ احسان کرنا۔اگر تیری موجودگی میں ان میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان کو اف تک نہ کہنا، اور نہ انہیں جھڑکنا، اور ان کے ساتھ ادب واحترام سے بات چیت کرنا] ب:مولائے کریم نے ارشاد فرمایا: {وَوَصَّیْنَا الْإِنْسٰنَ بِوَالِدَیْہِ حَمَلَتْہُ أُمُّہُ وَہْنًا عَلٰی وَہْنٍ وَفِصَالُہُ فِی عَامَیْنِ أَنِ اشْکُرْلِی وَلِوَالِدَیْکَ إِلَیََّ الْمَصِیْرُ وَإِنْ جَاہَدَاکَ عَلٰٓی أَنْ تُشْرِکَ بِي مَا لَیْسَ لَکَ بِہِٓ عِلْمٌ فَلاَ تُطِعْہُمَاوَصَاحِبْہُمَا فِي الدُّنْیَا مَعْرُوْفًاوَاتَّبِعْ سَبِیْلَ مَنْ أَنَابَ إِلَیَّ ثُمَّ إِلَيَّ مَرْجِعُکُمْ فَأُنَبِّئُکُمْ بِمَاکُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ}[2] [ترجمہ:ہم نے انسان کو اس کے ماں باپ کے بارے میں وصیت کی ہوئی ہے، اس کی ماں نے دکھ پر دکھ برداشت کر کے اس کو اٹھائے رکھا، اور اس [1] سورۃ الإسراء / الآیتان ۲۳-۲۴ [2] سورۃ لقمان / الآیتان ۱۴-۱۵۔