کتاب: والدین کا احتساب - صفحہ 66
کنبے میں والدین کی اہمیت وحیثیت کے بارے میں دو رائیں نہیں ہیں، ان کے بھلائی کے کام کرنے اور غلط باتوں سے اجتناب میں بجائے خود نیکی کی خاموش، مگر پر اثر دعوت، اور برائی سے گریز کی پر زور تلقین ہوتی ہے، اور اسی طرح ان کے نیک کام چھوڑنے اور برائی کا ارتکاب کرنے میں بذات خود نیکی ترک کرنے اور بدی کرنے کی خاموش، مگر زور دار تحریک موجود ہوتی ہے۔کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے: إِذَا کَانَ رَبُّ الْبَیْتِ بِالدَّفِّ ضَارِباً فَشِیْمَۃُ أَہْلَ الْبَیْتِ کُلِّہِمُ الرَّقْصُ ’’جب گھر کا سربراہ دف پیٹنے والا ہو گا، تو گھر والوں کا دستور تو رقص کرنا ہی ہو گا۔‘‘ اس بات کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ موجودہ دور کی بعض تحقیقات اس نتیجے پر پہنچی ہیں کہ نوجوانوں میں منشیات کے عام ہونے کے اسباب میں سے ایک یہ ہے کہ ان کے باپ نشہ آور چیزیں اور ان کی مائیں تسکین آور دوائیں استعمال کرتی ہیں۔[1] والدین کی یہ حیثیت اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ ان کے احتساب کا اہتمام دوسرے افراد کے مقابلے میں زیادہ کیا جائے تاکہ کنبے میں نیکی کا چلن اور غلبہ ہو، اور بدی کے ختم ہونے کے امکانات میں بفضل رب العزت اضافہ ہو۔ [1] ملاحظہ ہو:التدابیر الواقیۃ من المخدّرات (رسالۃ الدکتوراۃ) للدکتور فیصل بن جعفر بالی۔اور اسی میں ہے کہ مصر میں ڈاکٹر سلوی علی سلیم نے منشیات کے عادی نوجوانوں کے بارے اعداد وشمار ذکر کرتے ہوئے یہ تحریر کیا ہے کہ ’’نشہ کے رسیا ۶۸فیصد نوجوانوں نے کہا:’’ان کے باپ منشیات کے عادی تھے‘‘ اور ۲۰ فیصد نوجوانوں نے کہا:ان کی مائیں تسکین آور دوائیں استعمال کرتی ہیں‘‘۔(ص ۱۴۷)۔