کتاب: والدین کا احتساب - صفحہ 63
إِذَا ہُمْ خَالَفُوْہٗ۔وَأَخَذَ یَقُوْلُ:’’یَا عَبَّاسُ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ! لاَ أُغْنِي عَنْکَ مِنَ اللّٰہِ شَیْئًا، یَا صَفِیَّۃُ عَمَّۃَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم ! لاَ أُغْنِي عَنْکِ مِنَ اللّٰہِ شَیْئًا۔وَیَا فَاطِمَۃُ بِنْتَ مُحَمَّدٍ صلی اللّٰه علیہ وسلم سَلِیْنِي مَا شِئْتِ مِنْ مَالِي، لاَ أُغْنِيْ عَنْکِ مِنَ اللّٰہِ شَیْئًا[1] ‘‘[2] ’’شاید اسی حکمت کی بنا پر ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کا پابند کیا گیا کہ وہ اپنی قوم کو ڈرانے سے پہلے اپنے قرابت داروں کو ڈرائیں۔چنانچہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلانِ حق کیا تو اپنے اقارب کو جمع کرنا اور ڈرانا شروع کیا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر واضح کر دیا کہ اگر انہوں نے آپ کی نافرمانی کی تو وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچانے کے سلسلے میں ان کے کسی کام نہ آ سکیں گے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’اے عباس بن عبدالمطلب - رضی اللہ عنہ - ! میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں تمہارے کچھ کام نہ آ سکوں گا۔اے رسول اللہ - صلی اللہ علیہ وسلم - کی پھوپھی صفیہ -رضی اللہ عنہا- ! میں اللہ تعالیٰ کے ہاں آپ کے کسی کام نہ آؤں گا۔اے فاطمہ بنت محمد - صلی اللہ علیہ وسلم - ! میرے مال میں سے جو چاہو مجھ سے طلب کر لو، لیکن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں تمہیں کوئی فائدہ نہ پہنچا سکوں گا۔‘‘ ۳:خطبہ حجۃ الوداع کے حوالے سے امام نووی ؒ کا بیان: حجۃ الوداع کے موقع پر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زمانہ جاہلیت کی باتوں کو کلی طور پر منسوخ کرنے کا ارادہ فرمایا، تو سب سے پہلے اپنے قرابت داروں کے زمانہ جاہلیت کے غیر شرعی حقوق کے ابطال کا اعلان فرمایا۔ [1] حدیث شریف کے حوالے کے لیے ملاحظہ ہو:کتاب ہذا کا ص ۲۸۔ [2] دعوۃ الرسل إلی اﷲ تعالی ص ۴۴۔