کتاب: والدین کا احتساب - صفحہ 53
(۹) قرض کی حسن ادائیگی کا خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دینے کی تلقین والدین کے احتساب کے دلائل میں سے ایک یہ ہے کہ ہمارے نبی محترم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو اس بات کی تنبیہ کی کہ انہیں خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو قرض کی حسن ِادائیگی کا حکم دینا چاہیے تھا۔ امام ابن حبان ؒ نے حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کے حوالے سے زید بن سعنہ کا قصہ روایت کیا ہے۔اور اسی قصے میں ہے کہ اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گریبان کو پکڑا، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمے واجب قرض کی ادائیگی کا مطالبہ وعدئہ ِادائیگی سے دو یا تین دن پہلے ہی انتہائی سخت انداز میں کیا۔حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اس صورتِ حال کو دیکھا تو غضبناک نگاہوں سے اس کی طرف دیکھا، اور اس سے فرمایا: ’’أَي عَدُوَّ اللّٰہِ! أَتَقُوْلُ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم مَا أَسْمَعُ، وَتَفْعَلُ بِہِ مَا أَرَی ؟ فَوَالَّذِي بَعَثَہٗ بِالْحَقِّ ! لَوْلاَ مَا أُحَاذِرُ فَوْتَہٗ لَضَرَبْتُ بِسَیْفِي ہٰذَا عُنُقَکَ۔‘‘ ’’اے اللہ تعالیٰ کے دشمن ! کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ کچھ کہہ رہا ہے جو میں سن رہا ہوں، اور وہ کچھ کر رہا ہے جو میں دیکھ رہا ہوں ؟ اگر وہ بات نہ ہو جائے جس کے ہونے کا مجھے اندیشہ ہے [1] تو میں اپنی اس تلوار سے تیری گردن کاٹ دیتا۔‘‘ [1] یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ناراض ہونے کا خدشہ نہ ہوتا۔