کتاب: والدین کا احتساب - صفحہ 34
وَأَدْعُوْا رَبِّي عَسٰٓی أَلآّ أَکُوْنَ بِدُعَائِ رَبِّي شَقِیًّا} [1] ترجمہ:اور (اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم) اس کتاب میں ابراہیم - علیہ السلام - کا ذکر کرو، یقینا وہ سراپا سچائی اور نبی تھا، جب اس نے اپنے باپ سے کہا:’’اے میرے باپ ! آپ کیوں ایسی چیز کی پوجا کرتے ہیں جو نہ سنتی ہے، نہ دیکھتی ہے، اور نہ آپ کے کسی کام آ سکتی ہے۔ اے ابا جان ! یقینا میرے پاس وہ علم آ چکا ہے جو آپ کے پاس آیا ہی نہیں، تو آپ میری مانیں، میں بالکل سیدھی راہ کی طرف آپ کی راہبری کروں گا۔ اے میرے باپ ! شیطان کی بندگی نہ کیجیے، درحقیقت شیطان تو رحمان کا بڑا ہی نافرمان ہے۔ اے ابا جان ! میں ڈرتا ہوں کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ پر رحمن کی طرف سے عذاب آ پڑے، اور آپ شیطان کے ساتھی بن جائیں۔‘‘ اس [یعنی باپ] نے کہا:’’اے ابراہیم! کیا تو ہمارے معبودوں سے روگردانی کر رہا ہے ؟ اگر تو باز نہ آیا تو تجھے سنگ سار کر کے چھوڑ دوں گا۔[اپنی خیر چاہتا ہے تو جان سلامت لے کر] ایک لمبی مدت کے لیے مجھ سے الگ ہو جا۔‘‘ اس [ابراہیم علیہ السلام ] نے کہا:’’[اچھا] آپ پر سلام [میں الگ ہو جاتا ہوں]، میں اپنے رب سے آپ کی بخشش کی دعا کرتا رہوں گا، وہ مجھ پر نہایت مہربان ہے۔میں آپ کو، اور جن کو آپ اللہ تعالیٰ کے سوا پکارتے ہیں، چھوڑ رہا ہوں، میں اپنے رب کو پکارتا رہوں گا۔امید ہے اپنے رب کو پکارنے میں محروم ثابت نہیں ہوں گا۔‘‘ [1] الآیات ۴۱۔۴۸۔