کتاب: والدین کا احتساب - صفحہ 32
ارتکاب ہو اس سے روکا جائے، خواہ نیکی کے چھوڑنے والے اور برائی کے کرنے والے ماں باپ ہوں یا اور کوئی قرابت دار۔ علامہ غزالی ؒ نے اس بارے میں تحریر کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لیے والدین اور رشتے داروں کے خلاف گواہی دینے سے مراد یہ ہے کہ انہیں نیکی کا حکم دیا جائے۔[1] شیخ ابن داود صالحی ؒ نے اس سلسلے میں لکھا ہے کہ یہ آیت واضح طور پر [امر بالمعروف اور نہی عن المنکر] کے وجوب پر دلالت کناں ہے، اگرچہ اس کا تعلق ماں باپ اور رشتے داروں سے کیوں نہ ہو۔[2] ایک دوسری آیت ِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: {یٰٓأَیُّہَا الَّذِیْنَ ئَ امَنُوْا کُوْنُوْا قَوَّامِیْنَ لِلّٰہِ شُہَدَآئَ بِالْقِسْطِ وَلاَ یَجْرِمَنَّکُمْ شَنَئَانُ قَوْمٍ عَلٰٰٓی أَلاَّ تَعْدِلُوْا اعْدِلُوْا ہُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰی وَاتَّقُوْا اللّٰہ َ إِنَّ اللّٰہ َ خَبِیْرٌ بِمَا تَعْمَلُوْنَ}[3] [ترجمہ:اے اہل ایمان ! اللہ تعالیٰ کے لیے مضبوطی سے قائم رہنے والے، انصاف کے لیے گواہی دینے والے ہو جاؤ، اور کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس بات کے لیے نہ ابھارے کہ تم [اس کے ساتھ] انصاف نہ کرو، انصاف کرو کہ یہی تقویٰ سے لگتی ہوئی بات ہے، اور اللہ تعالیٰ [کی نافرمانی کے نتائج] سے ڈرو، تم جو کچھ کرتے ہو یقینا اللہ تعالیٰ اس کی خبر رکھنے والا ہے] علامہ محمد جمال الدین قاسمی ؒ نے آیت کریمہ کی تفسیر میں بعض مفسرین ؒ کا قول نقل کیا ہے کہ یہ آیت امر بالمعروف، نہی عن المنکر اور انصاف کے ساتھ ڈٹے رہنے کی فرضیت پر دلالت کناں ہے، اور اسی میں عدل وانصاف کے ساتھ گواہی دینا، فیصلہ [1] ملاحظہ ہو:إحیاء علوم الدین ۲/۳۰۷۔ [2] ملاحظہ ہو:الکنز الأکبر في الأمر بالمعروف والنہي عن المنکر ۱/۴۷۔ [3] سورۃ المائدۃ /الآیۃ ۸۔