کتاب: والدین کا احتساب - صفحہ 31
اہل سے مراد: امام راغب اصفہانی ؒ کے قول کے مطابق [اہل] سے مراد کسی شخص کے ہم نسب یا ہم دین لوگ ہوتے ہیں، اسی طرح اس کے پیشے سے منسلک لوگ اور ایک ہی گھر اور شہر میں رہنے والے لوگ بھی [اہل] میں شمار ہوتے ہیں۔ اصل میں آدمی کے [اہل] میں وہ لوگ شامل ہوتے ہیں جو اس کے ساتھ ایک ہی مکان میں سکونت اختیار کرتے ہیں، پھر اس لفظ کے معنی میں وسعت دے کر مشترک نسل سے پیوست لوگوں کو اہل کہا جاتا ہے۔[1] ۳:اللہ تعالیٰ کے لیے سچی گواہی دینے کا حکم: ربِ ذوالجلال نے اہل ایمان کو حکم دیا ہے کہ وہ اس کے لیے سچی گواہی دیں، خواہ وہ گواہی خود ان کے، یا ان کے ماں باپ اور قرابت داروں کے خلاف ہی ہو۔ ارشادِ رب العالمین ہے: {یٰٓأَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ بِالْقِسْطِ شُہَدَآئَ لِلّٰہِ وَلَوْ عَلٰٓی أَنْفُسِکُمْ أَوِ الْوَالِدَیْنِ وَالأَقْرَبِیْنَ} [2] [ترجمہ:اے ایمان والو! انصاف پر پوری مضبوطی کے ساتھ قائم رہنے والے، اور اللہ تعالیٰ کے لیے سچی گواہی دینے والے ہو جاؤ، خواہ تمہیں اپنے، یا اپنے ماں باپ اور قرابت داروں کے خلاف بھی گواہی دینی پڑے (تب بھی نہ جھجکو)] اور اللہ تعالیٰ کے لیے سچی گواہی دینے میں یہ بات بھی شامل ہے کہ جہاں نیکی چھوڑی جائے، وہاں اس کے قائم کرنے کا حکم دیا جائے، اور جہاں کہیں برائی کا [1] ملاحظہ ہو:المفردات في غریب القرآن، مادۃ ’’أہل‘‘، ص ۲۹۔ [2] سورۃ النساء / جزء من الآیۃ ۱۳۵۔