کتاب: والدین کا احتساب - صفحہ 100
فِي مَعْصِیَۃِ الْخَالِقِ۔فَالْوَلَدُ یُغَیِّرُ الْمُنْکَرَ عَلٰی وَالِدِہِ بِیَدِہِ مَعَ الْقُدْرَۃِ وَعَدْمِ الْمَفْسَدَۃِ، وَمَعَ ذٰلِکَ یَسْتَعْمِلُ مَعَہُ التَّلَطُّفَ فِي الْخَطَابِ وَالتَّرَحُّمَ عَلَیْہِ وَالدُّعَائَ لَہُ، وَبَیَانَ ضَرَرِ الْمَعْصِیَۃِ حَتّٰی یَہْدَأَ وَالِدُہُ وَیَسْکُنَ إِلَیْہِ، وَیَعْلَمَ أَنَّ قصْدَ ابْنِہٖ مَحْضُ النُّصْحِ لَہٗ وَالشَّفْقَۃُ عَلَیْہِ، وَالْغَیْرَۃُ لِلّٰہِ وَلِمَحَارِمِہٖ‘‘۔[1] ’’اگر باپ کے متعلقہ برائی کے بدلنے سے بڑی برائی نمودار نہ ہو، اور نہ ہی بیٹے کی جان،مال اور اہل کو نقصان پہنچے، تو بیٹے کو ایسا کرنے کا اختیار ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا حق باپ کے حق پر مقدم ہے، اور مخلوق میں سے کسی کی ایسی اطاعت جائز نہیں، جس میں خالق سبحانہ وتعالیٰ کی نافرمانی ہو۔لہٰذا بیٹا استطاعت کے موجود ہونے اور خرابی کے نہ پیدا ہونے کی صورت میں باپ سے متعلقہ برائی کو ہاتھ سے بدل دے۔البتہ اس کارروائی کے دوران باپ کے ساتھ گفتگو نرمی سے کرے، اس کے ساتھ اظہارِ ہمدردی کرے، اس کے لیے دعائیہ کلمات استعمال کرے، اور اس کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کے برے انجام سے آگاہ کرے، تاکہ اس کا غصہ ٹھنڈا ہو جائے، اور وہ اپنے بیٹے کے طرزِ عمل سے اتفاق کرے، اور وہ اس بات کا یقین کر لے کہ بیٹے کی ساری کارروائی کے پس ِ منظر میں باپ کی خیر خواہی، ہمدردی اور حدودِ الٰہیہ کے احترام کے جذبات کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔‘‘ شیخ عبدالعزیز راجحی کی سابقہ تحریر سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر ہاتھ کے ساتھ باپ کے متعلقہ برائی کو بدلنے سے کسی بڑی خرابی کے پیدا ہونے کا اندیشہ نہ ہو، اور نہ ہی بیٹے کی جان، مال اور اہل کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہو، تو بیٹا ایسی برائی کے ازالے کے [1] القول البین الأظہر في الدعوۃ إلی اﷲ والأمر بالمعروف والنہي عن المنکر ص ۷۹۔۸۰۔