کتاب: توحید باری تعالیٰ سے متعلقہ شکوک وشبہات کا ازالہ - صفحہ 91
’’کتاب الابرار کے مصنف قبروں کے پاس نماز پڑھنے،قبروالوں سے امداد مانگنے کے جائز نہ ہونے،قبروں پر چراغاں کرنے اور شمعیں جلانے کی ممانعت کے بیان والی فصل میں لکھتے ہیں۔‘‘ (وَالْواجِبُ ھَدْمُ ذَالِکَ کُلِّہٖ وَمَحْوُاَ ثَرِہٖ کَمَا اَنَّ عُمَرَ بَلَغَہ‘ اَنَّ النَّاسَ یَتَنَا وَبُونَ الشَجَرَۃَ الَّتِیْ بُوْیِعَ تَحْتَھَا بِالنَّبِیِّ عَلَیْہِ الصَّلوٰۃُ وَالسَّلَامُ اَرْسَلَ اِلَیْھَا فَقَطَعَھَا وَفِی رِوَایَۃٍ:فَاسْتَاْ صَلَھَا)(بلاغ المبین،ص ۸۔۹) ’’ان تمام غیر شرعی تجاوزات کو مٹانا اور ان کا نام ونشان تک ختم کردینا واجب ہے جس طرح حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ کو جب خبر ملی کہ لوگ اُس درخت کی طرف بڑی عقیدت سے جارہے ہیں جس کے نیچے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی گئی تھی توحضرت عمرِ رضی اللہ عنہ نے آدمی بھیجا جس نے اسے کاٹ دیا۔‘‘ اور ایک روایت میں ہے:’’ اسے جڑسے اکھاڑدیا۔‘‘ اس واقعہ سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی باریک بینی اور دُور اندیشی کی شعاعیں پھوٹ پھوٹ کر دلِ مومن کو منور کرتی ہیں۔وہ اس نتیجہ پر کتنی جلدی پہنچ گئے تھے کہ اگر یہ درخت قائم رہا تو یہ شرک کا گڑھ اور مرجع ِ خلائق بن جائے گا۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کے بارے میں یوں ہی تو نہیں فرمایا تھا: ((لَوْ کَانَ بَعْدِیْ نَبِیّاً لَکَانَ عُمَرُ))[1] ’’اگر میرے بعد کسی کونبی بنایا جاتا تو وہ عمر(رضی اللہ عنہ)ہوتے۔‘‘ ابن ِ حجر مکّی کا قول: اسی طرح ہی ان بدعات کی سختی سے مخالفت کرتے ہوئے علّامہ ابن حجر ہیتمی مکی رحمہ اللہ [1] بخاری ، کتاب الادب: ۱۰۹ ۔ ترمذی ، کتاب المناقب: ۱۷ ۔مسند احمد : ۴؍ ۱۵۴، ۳۵۳