کتاب: توحید باری تعالیٰ سے متعلقہ شکوک وشبہات کا ازالہ - صفحہ 64
دربار ِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے تنبیہہ: پیغمبر ِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم فرماگئے ہیں: ((مَنْ یَعِشْ مِنْکُمْ بَعْدِیْ فَسَیَرَیٰ اِخْتَلَافاً کَثِیْراًفَعَلَیْکُمْ بِسُنَّتِیْ وَسُنَّۃِ الْخُلَفَائِ الرَّاشِدِیْنَ الْمَھْدِیِّیْنَ،تَمَسَّکُوْابِھَا وَعَضُّوْا عَلَیْھَا بِالنَّوَا جِذِ وَاِیَّاکُمْ وَمُحْدَثَاتِ الْاُمُوْرِ فَاِنَّ کُلَّ مُحْدَثَۃٍ بِدْعَۃٌ وَکُلَّ بِدْعۃٍ ضَلَالَۃٌ))[1] ’’میرے بعد جو زندہ رہے گا وہ بہت زیادہ اختلاف دیکھے گا۔تب آپ پرمیری سنت اور ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کا طریقہ لازم ہے،انھیں مضبوطی سے پکڑے رکھو اور نئے نئے امور سے بچو،بے شک ہر نیا کام بدعت ہے اورہر بدعت گمراہی ہے۔‘‘ اسی موضوع کی معمولی فرق والی کئی احادیث ہیں۔ایک دوسری حدیث میں شارع علیہ اسلام نے ان’’شریعت سازوں‘‘ کی چیرہ دستیوں اورکارستانیوں کے نتیجے میں رواج پزیر ہونے والی بدعات وخرافات کے متعلق جس قدر تکرار سے متنبہ کیا،اور بدعت کی جس شدّومد سے بُرائی بیان کی ہے،شائد دوسری کسی بُرائی کا اتنا ذکر نہ کیا ہوگا۔کیونکہ خطبہ مسنونہ میں ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: ((کُلُّ بِدْعَۃٍ ضَلَالَۃٌ وَکُلُّ ضَلَالَۃٍ فِی النَّارِ))[2] ’’ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی کا انجام نار ِ جہنم ہے۔‘‘ آج بھی علماء کرام وعظ وارشاد کا آغازعموماً اِ سی خطبۂ مسنونہ سے ہی کرتے ہیں اور اِس بیماری بدعت کی نشاندہی کرتے رہتے ہیں۔مگر ع [1] ابوداؤد:کتاب السّنہ:۵،ترمذی:کتاب العلم ۱۶،مسنداحمد:۲؍۳۴۵،۴؍۱۲۶۔۱۲۷ [2] مسلم:کتاب الجمعہ:۴۳،ابوداؤد،کتاب السّنہ ۵،مسنداحمد ۳؍۳۱۰،۴؍۱۲۶۔۱۲۷ وغیرہ