کتاب: توحید باری تعالیٰ سے متعلقہ شکوک وشبہات کا ازالہ - صفحہ 62
زندگی کے ہر لمحہ وہر موڑ پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت ِ طیّبہ ہمارے لیے مشعل ِ راہ اور بہترین نمونہ ہے۔جیسا کہ قرآن گواہ ہے: ﴿لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ﴾ (سورۃ الاحزاب:۲۱) ’’رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم)کی ذات آپ کے لیے بہترین نمونہ ہے۔‘‘ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قول وعمل کا نام ہی ’’سنت‘‘ ہے۔اور جو مسلمان رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق زندگی گزاررہا ہو،وہی اصلی’’اہلِ سنت‘‘ ہے اور وہی اللہ کا مطیع وفرمان بردار،کیونکہ خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ِ گرامی ہے: ((مَنْ اَطَاعَنِیْ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰہَ))[1] ’’جس نے میری اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی۔‘‘ جو مسلمان اپنی من مانی کرے،عبادات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کو مدِّنظر نہ رکھے اور بعض ایسے کاموں کو دین اور ثواب سمجھ کر بجالائے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ کہی ہوں،نہ کرنے کا حکم دیا ہووہ کام’’بدعت‘‘ باعث ِ عتاب اور موجب ِعقاب وعذاب ہیں۔ بدعت کا لغوی معنیٰ: نئی چیز یا نیا کام جو پہلے پہل ہو،اس سے قبل اس کا وجود نہ ہو،لغت میں اسے’’بدعت‘‘ کا نام دیا جاتا ہے۔قرآن ِ پاک میں ارشادِ الٰہی ہے: ﴿بَدِیْعُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ﴾(سورۃ البقرہ:۱۱۷،الانعام:۱۰۱) ’’(اللہ)آسمانوں ا ورزمین کو پہلے پہل پیدا کرنے والاہے۔‘‘ اللہ کی صفت’’بدیع‘‘ اسی لیے ہے کہ اِن ارض وسماء سے پہلے کوئی ایسی چیز [1] صحیح بخاری، کتاب الاعتصام: ۲۰ ، ومختصر صحیح مسلم: ۱۲۲۳