کتاب: توحید باری تعالیٰ سے متعلقہ شکوک وشبہات کا ازالہ - صفحہ 61
﴿فَلْیَحْذَرِ الَّذِیْنَ یُخَالِفُوْنَ عَنْ اَمْرِہٖ اَنْ تُصِیْبَھُمْ فِتْنَۃٌ اَوْیُصِیْبَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ﴾(سورۃ النور:۶۳) ’’آپ(صلی اللہ علیہ وسلم)کے احکام کی خلاف ورزی کرنے والوں کو ڈرنا چاہیئے کہ کسی فتنے کا شکار نہ ہوجائیں یا دردناک عذاب میں مبتلا نہ ہوجائیں۔‘‘ ءزندگی بھر پیش آنے والے ہر معاملے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کواور آپ کے فرمان کوحَکم اور مُنصف تسلیم کیا جائے۔جیسا کہ حکم ِ ربّانی ہے: ﴿فَلَا وَرَبِّکَ لَا یُؤْمِنَُوْنَ حَتّٰی یُحَکِّمُوْکَ فِیْمَا شَجَرَ بَیْنَھُمْ﴾(سورۃ النسآء:۶۵) ’’تیرے رب کی قسم ہے کہ لوگ اُس وقت تک مومن نہیں ہوسکتے جب تک اپنے اختلافات میں آپ کو منصف نہ مان لیں۔‘‘ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے بعد اگر کسی کی علی الاطلاق اطاعت فرض ہے تو وہ صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ گرامی ہے،کیونکہ حکم ِ الٰہی ہے: ﴿اَطِیْعُوْاللّٰہَ وَاطِیْعُوْاالَّرُسُوْلَ.................﴾[1] ’’اللہ کی اطاعت کرو اور رسول(صلی اللہ علیہ وسلم)کی اطاعت کرو۔‘‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی،زندگی کی ہر حالت میں خوشی ہوکہ غم‘خوشحالی ہوکہ تنگ دستی‘راضی ہوں کہ غصّہ میں‘ معاملہ نجی وذاتی ہو یا عوامی،ہر حالت میں ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گفتار وکردارعین اطاعت ِ الٰہی کا نمونہ ہیں۔اوراس پر قرآن شاہد ہے: ﴿وَمَا یَنْطِقُ عَنِ الْھَوٰیo اِنْ ھُوَااِلَّا وَحْیٌ یُّوْحٰیo﴾ (سورۃ النجم:۳۔۴) ’’اورآپ(صلی اللہ علیہ وسلم)اپنی خواہش سے نہیں بولتے،آپ(صلی اللہ علیہ وسلم)کا کلام وحی ِ الٰہی ہوتا ہے۔‘‘ [1] النساء: ۵۹۔ المائدہ : ۹۲۔ النور: ۵۴۔ محمد : ۳۳۔ التغابن: ۱۲، اسی طرح دیکھیے سورہ آل عمران : ۳۲، ۱۳۲۔ الانفال: ۱،۲۰،۴۶۔ المجادلہ: ۱۳