کتاب: توحید باری تعالیٰ سے متعلقہ شکوک وشبہات کا ازالہ - صفحہ 54
’’جو اُن کی قوم میں سے تھا اس نے دشمن کے فرد کے خلاف ان سے مدد طلب کی۔‘‘ یا جس طرح انسان دَورانِ جنگ یا دوسرے حالات میں اپنے ساتھیوں سے ایسے کاموں میں مدد طلب کرتا ہے،جن کی وہ طاقت رکھتے ہیں۔ ہم نے تو ’’استغاثہ ٔعبادت‘‘ کا انکار کیا ہے،جیسا کہ یہ لوگ اولیاء اللہ کے مزارات کے پاس یا دُرودراز سے ان کی عدم موجودگی میں ایسے اُمور میں مدد ومشکل کشائی کے طالب ہوتے ہیں جن کی قدرت صرف اللہ ہی کے پاس ہے۔جب یہ ثابت ہوگیا تو قیامت کے روز لوگوں کا انبیاء ورُسل سے استغاثہ کرنا کہ وہ اللہ سے دُعاء فرمائیں تاکہ لوگوں کا حساب وکتاب ہو اور اہل ِ جنّت اس طویل رُکاوٹ کی پریشانی سے استراحت وآرام پائیں۔اس قسم کا استغاثہ دنیا وآخرت ہر دو جہاں میں جائز ہے۔دُنیا میں یوں کہ آپ کسی پارسا،پاکباز،زندہ اور حقیقی ولی کے پاس جائیں جو آپ کو اپنے پاس بٹھائے اور آپ کی بات سُنے۔آپ اسے کہیں کہ میرے لیے اللہ سے دعاء فرمائیں،جس طرح کہ اصحاب ِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ بابرکات میں یہی سوال کیا کرتے تھے‘البتہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ہر گز ہر گز ایسا نہیں ہوا کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے روضۂ اطہر کے پاس جاکر یہ سوال کیا ہو بلکہ سلف صالحین نے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبرِ مُبارک کے پاس کھڑے ہو کر اللہسے سوال کرنے کو بھی ممنوع کہا ہے۔[1] چہ جائیکہ سوال ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا جائے۔ شُبہ نمبر۱۵: وہ ایک اعتراض واشکال یہ بھی پیش کرتے ہیں کہ:’’جب حضرت [1] سداً للباب تاکہ کوئی کمزور ایمان اور ضعیف الاعتقادیہ نہ سمجھ لے کہ شاید اسی روضہ سے رفع حاجت کا سوال کر رہا ہے ۔ قمر