کتاب: توحید باری تعالیٰ سے متعلقہ شکوک وشبہات کا ازالہ - صفحہ 50
٭ یہ قصّہ بتاتا ہے کہ مجتہد مسلمان اگر لاعلمی میں کوئی موجبِ کُفر بات کہہ دے اور اس پر متنبّہ ہوتے ہی فوراً تائب ہوجائے تو وہ کافر نہیں ہوگا۔ ٭ اور اس سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ اگرچہ وہ کافر نہیں ہوگا۔اس کے باوجود اسے شدید ترین تنبیہہ کی جائے گی جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کی۔ شُبہ نمبر۱۳: مشرکین کے پاس ایک اور اعتراض یا شبہہ واشکال ہے،وہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کو اُس آدمی کے قتل کرنے سے منع فرمایا جولَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ کا اقرار کرے اور انھیں فرمایاتھا: ((أَقَتَلْتَہ‘ بَعْدَ مَا قَالَ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ))(حدیث) ’’تو نے اُسے لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ کہہ دینے کے باوجود قتل کردیا؟‘‘ اسی طرح فرمان ِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم ہے: ((اُمِرْتُ اَنْ اُقَاتِلَ النَّاسَ حَتّٰی یَقُوْلُوْالَآاِلٰہَ اِلَّااللّٰہُ))[1] ’’مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں ان کے ساتھ جہاد کروں یہاں تک کہ وہ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ ُکہنے لگیں۔‘‘ وہ اسی طرح کی دوسری احادیث بھی پیش کرسکتے ہیں جو کلمۂ توحید کہنے والے سے دست کش وباز رہنے کے بارے میں ہیں۔اوران جاہلوں کا خیال ہے کہ یہ کلمہ کہنے والا کافر نہیں ہوتا نہ ہی اسے قتل کیا جائے گا وہ چاہے کچھ بھی کرگزرے۔ جواب: ان جاہل مشرکین سے کہا جائے گا اور یہ ہے بھی ایک مصدّقہ حقیقت کہ رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود کے ساتھ جہاد کیا حالانکہ وہ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کہتے تھے۔اور اصحاب ِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو حنیفہ سے جہاد کیا حالانکہ وہ لَااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ اور مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ کابھی اقرارکرتے تھے،نمازیں پڑھتے اور اسلام کا دعویٰ کرتے تھے۔اور اسی [1] بخاری و مسلم وغیرہ ، صحیح الجامع ۱؍ ۲۹۲