کتاب: توحید کی آواز - صفحہ 328
’’اس لیے کہ وہ (سورج) شیطان کے دو سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے۔‘‘[1] اس کا مطلب شارحین نے یہی بیان کیا ہے کہ جب سورج طلوع ہونے لگتا ہے تو شیطان اس کے سامنے کھڑا ہو جاتا ہے تاکہ سورج اس کے منہ کے سامنے سے نکلے اور غروب شمس کے وقت بھی وہ ایسا ہی کرتا ہے تاکہ غروب بھی اس کے منہ کے سامنے ہو۔شیطان ایسا کیوں کرتا ہے؟ اس لیے کہ ان دونوں اوقات میں سورج کے پجاری سورج کو سجدہ کرتے ہیں اور جب شیطان ان دونوں اوقات میں اس کے سامنے آکھڑا ہوتا ہے تو وہ سجدہ بھی اسی شیطان کو ہوتا ہے۔یوں سورج کے پجاری شیطان کو سجدہ کرتے ہیں۔[2] گویا سورج کے طلوع اور غروب ہونے کے دونوں اوقات، سورج کے پجاریوں کے اوقاتِ عبادت ہیں، ان اوقات میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو اللہ کی عبادت کے لیے نماز پڑھنے سے بھی منع فرما دیا، حالانکہ مسلمان تو نماز صرف اللہ کے لیے پڑھتے ہیں۔لیکن چونکہ ان اوقات میں نماز پڑھنے میں سورج کے پجاریوں کے ساتھ مشابہت ہے، اس لیے ان اوقات میں مسلمانوں کو نماز پڑھنے سے روک دیا گیا۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ مسلمانوں کو شرک سے بچانے کے لیے کتنے محکم، واضح اور دور رس بند باندھے گئے ہیں۔ظاہری مشابہت تک کو ممنوع قرار دے دیا گیا ہے لیکن نام کے مسلمانوں نے مذکورہ تعلیمات و ہدایات کا کیا حشر کیا؟ بدقسمتی سے یہ تماشا بعض بزرگوں کے مزارات پر آج بھی صبح شام دیکھا جاسکتا ہے۔
[1] صحیح البخاري، بدء الخلق، حدیث: 3273. [2] فتح الباری، باب مذکور.