کتاب: توحید کی آواز - صفحہ 327
وارث اور مالک نہیں۔سب کی وراثت اور ملکیت عارضی اور فانی ہے، مرنے کے بعد کوئی وارث رہتا ہے نہ مالک۔اللہ کے لیے موت اور فنا نہیں، اسی لیے وہ سب کا وارث اور مالک ہے۔ 9 حدیث شریف میں ہے: ((لَعَنَ رَسُولُ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم زَوَّارَاتِ الْقُبُورِ)) ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کثرت سے قبروں کی زیارت کرنے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے۔‘‘[1] نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان بھی اپنی امت کو شرکیہ امور سے بچانے کے لیے ہے۔عورتوں کا کثرت سے قبروں پر جانا اور دیگر روایات کے مطابق قبروں پر مسجدیں بنانا اور ان پر مجاور بن کر بیٹھنا، یہ سارے کام انھی لوگوں میں رائج ہیں جو مشرکانہ عقائد و افعال میں مبتلا ہیں، اسی لیے وہ ان مذکورہ احادیث کو کوئی اہمیت نہیں دیتے جن میں عورتوں کے بکثرت قبروں پر جانے، وہاں مجاور بن کر بیٹھنے اور درگاہیں بنانے کی ممانعت ہے اور ان افعال کے کرنے والوں کو ملعون قرار دیا گیا ہے۔جن کاموں کے مرتکبین پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت فرمائی، ان کی خرابی اور بدبختی، محتاج وضاحت نہیں۔لیکن اس امت کے بہت سے لوگوں کی ڈھٹائی اور بے شرمی بھی قابل تعجب ہے کہ وہ مذکورہ تمام مشرکانہ کام بڑے فخر سے کرتی ہے۔فَنَعوذ باللّٰہ من ھٰذا. 10 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((إِِذَا طَلَعَ حَاجِبُ الشَّمْسِ فَدَعُوا الصَّلَاۃَ حَتّٰی تَبْرُزَ وَإِِذَا غَابَ حَاجِبُ الشَّمْسِ فَدَعُوا الصَّلَاۃَ حَتّٰی تَغِیبَ)) ’’جب سورج کی ٹکیہ کا کنارہ طلوع ہونے لگے تو تم نماز چھوڑ دو، یہاں تک کہ وہ ظاہر (بلند) ہو جائے اور جب سورج کی ٹکیہ کا کنارہ غائب (غروب) ہونے لگے تو تم نماز چھوڑ دو، یہاں تک کہ وہ (اچھی طرح) غائب ہو جائے۔‘‘[2] اس حدیث میں نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج کے طلوع اور غروب ہونے کے اوقات میں نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔کیوں؟ اس کی وجہ خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بیان فرمائی ہے: ((فَإِنَّھَا تَطْلُعُ بَیْنَ قَرْنَیْ شَیْطَانٍ))
[1] مسند أحمد: 2؍356. [2] صحیح البخاري، بدء الخلق، حدیث: 3272.