کتاب: توحید کی آواز - صفحہ 326
اس کی مشیت میں کسی اور کو شریک مت کرو۔اس میں شرک یا شائبہ شرک ہے، البتہ اللہ کی مشیت کے بعد پھر کسی دوسرے کی مشیت کا اظہار کرنا جائز ہے کیونکہ اس میں شرک کا شائبہ نہیں ہے، اس لیے کہ یہ دوسری مشیت، اللہ ہی کی مشیت کے تابع ہے جبکہ پہلی صورت میں اللہ کی مشیت اور بندے کی مشیت میں برابری پائی جاتی ہے جیسا کہ بعض لوگ لکھتے اور کہتے ہیں: ’’اللہ نبی وارث‘‘ یہ شرکیہ کلمہ ہے کیونکہ اس میں نبی کو اللہ کے ساتھ برابری کی سطح پر پہنچا دیا گیا ہے، حالانکہ قرآن مجید میں صرف اللہ کی میراث کی صراحت مذکور ہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿ وَلِلّٰهِ مِيرَاثُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ﴾ ’’اور آسمانوں اور زمین کی میراث اللہ ہی کے لیے ہے۔‘‘[1] اس کا مطلب یہ ہے کہ آسمان اور زمین کی ہر چیز فنا ہو جائے گی اور باقی صرف اللہ رہ جائے گا جو ان سب کا وارث ہے، جیسے مرنے والا مر جاتا ہے اور اس کی تمام چیزوں کے وارث وہ لوگ ہوتے ہیں جو اس کی اولاد میں سے یا قریبی رشتے داروں میں سے باقی (زندہ) ہوتے ہیں۔اس اعتبار سے جب ایک شخص کہتا ہے: اللہ وارث ہے۔تو اس کا مطلب، اللہ کی بقا اور اس کے دوام کا اظہار ہے جو ایک صحیح بات اور صحیح جملہ ہے۔لیکن جب یہ کہا جائے کہ اللہ نبی وارث ہے تو اس میں عقیدے کا فساد شامل ہو جاتا ہے، اس کا مطلب، اللہ کے ساتھ ساتھ اللہ کے نبی کو بھی دوام اور بقا حاصل ہے جو یکسر غلط ہے، اس لیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تو مخلوق ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم موت سے ہمکنار ہو کر اس دنیا سے جا چکے ہیں۔اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہمیشہ کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرح زندہ اور باقی رہنے والا ماننا، شرک ہے۔بقا اور دوام صرف اللہ کی صفت ہے، یہ کسی مخلوق کی صفت نہیں ہوسکتی۔قرآن مجید میں ہے: ﴿ كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ (26) وَيَبْقَى وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ ﴾’’ہر ایک جو اس (زمین) پر ہے، فنا ہونے والا ہے۔اور آپ کے رب کا چہرہ باقی رہے گا، جو بڑی عظمت اور احترام والا ہے۔‘‘[2] قرآن کریم کی ان دونوں آیات کا مطلب یہی ہے کہ دنیا کی ہر چیز فانی ہے، بقا اور دوام صرف اللہ تعالیٰ کو حاصل ہے اور اس اعتبار سے ہر چیز کا وارث اور مالک صرف اللہ ہے، اللہ کے سوا کوئی حقیقی
[1] آل عمران 180:3. [2] الرحمٰن 27،26:55.