کتاب: توحید کی آواز - صفحہ 325
جہاں پہلے غیراللہ کے نام کے جانور ذبح ہوتے رہے ہوں یا وہاں کوئی میلہ لگتا رہا ہو، چنانچہ حدیث شریف میں آتا ہے کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا:
میں نے نذر مانی تھی کہ میں مقام بوانہ پر جا کر اونٹ ذبح کروں گا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ((ھَلْ کَانَ فِیْھَا وَثَنٌ مِّنْ أُوْثَانِ الْجَاھِلِیَّۃِ یُعْبَدُ؟))
’’کیا وہاں زمانۂ جاہلیت کے بتوں میں سے کوئی بت تھا جس کی پرستش کی جاتی تھی؟‘‘
لوگوں نے بتلایا: نہیں۔
پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ((ھَلْ کَانَ فِیھَا عِیدٌ مِّنْ أَعْیَادِھِمْ؟))
’’وہاں ان کی عیدوں میں سے کوئی عید تو نہیں منائی جاتی تھی؟‘‘
لوگوں نے اس کی بھی نفی کی۔اس صورت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سائل کو نذر پوری کرنے کی اجازت دے دی۔[1]
ایسی جگہوں پر نذر کے جانور ذبح کرنے سے روکنے کا مقصد بھی یہی ہے کہ ایسی جگہوں یا باطل معبودوں کے تقدس کا کوئی وہم لوگوں کے ذہنوں میں سرایت نہ کر جائے کیونکہ ایسا تقدس بھی شرک کا ذریعہ بنتا ہے۔
8 نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے الفاظ استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے جن میں اللہ اور اس کی مخلوق کے درمیان برابری کا کوئی تصور یا شائبہ ہو۔ایک حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
((لَا تَقُولُوا: مَا شَاءَ اللّٰہُ وَشَاءَ فُلَانٌ، وَلٰکِنْ قُولُوا: مَا شَاءَ اللّٰہُ ثُمَّ شَاءَ فُلَانٌ))
’’تم اس طرح مت کہو (کہ وہ ہوگا) جو اللہ چاہے اور فلاں چاہے بلکہ یہ کہو: جو اللہ چاہے، پھر جو فلاں چاہتا ہے۔‘‘[2]
یعنی ہر کام صرف اللہ ہی کی مشیت سے ہوتا ہے، اس کی مشیت میں کوئی دوسرا شریک نہیں، اس لیے
[1] سنن أبي داود، النذور والأیمان، حدیث: 3313.
[2] سنن أبي داود، الأدب، حدیث: 4980، وصححہ الألباني في تعلیقات المشکاۃ: 3؍1349.