کتاب: توحید کی آواز - صفحہ 324
اور اسے مسجد نہ بنا لے کیونکہ اس طرح آپ کی قبر بت بن جاتی۔‘‘ [1] 6 نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((لَا تُشَدُّالرِّحَالُ إِلَّا إِلٰی ثَلَاثَۃِ مَسَاجِدَ،الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَمَسْجِدِ الرَّسُولِ صلي اللّٰه عليه وسلم، وَمَسْجِدِ الْأَقْصٰی)) ’’تین مسجدوں … مسجد حرام، مسجد نبوی اور مسجد اقصیٰ… کے سوا کسی بھی جگہ کی طرف (تعظیم و زیارت اور حصول برکت کے لیے) سفر نہ کیا جائے۔‘‘[2] اس حدیث کی رُو سے ان تمام مزارات، مقابر و مشاہد، آستانوں اور درگاہوں کی طرف سفر کرنا ممنوع ہے جہاں لوگ تقرب اور ثواب کی نیت سے جاتے ہیں کیونکہ یہ بھی غیراللہ کی عبادت کا ذریعہ بنتا ہے، چنانچہ شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ((کَانَ أَھْلُ الْجَاھِلِیَّۃِ یَقْصُدُونَ مَوَاضِعَ مُعَظَّمَۃً بِزَعْمِھِمْ وَیَزُورُونَھَا وَیَتَبَرَّکُونَ بِھَا وَفِیہِ مِنَ التَّحْرِیْفِ وَالْفَسَادِ مَالَا یَخْفٰی فَسَدَّ النَّبِیُّ صلي اللّٰه عليه وسلم الْفَسَادَ لِئَلَّا یَلْتَحِقَ غَیْرُ الشَّعَائِرِ بِالشَّعَائِرِ وَلِئَلَّا یَصِیرَ ذَرِیعَۃً لِّعِبَادَۃِ غَیْرِ اللّٰہِ وَالْحَقُّ عِنْدِی أَنَّ الْقَبْرَ وَمَحَلَّ عِبَادَۃِ وَلِیٍّ مِنْ أَوْلِیَاءِ اللّٰہِ وَالطُّورَ کُلَّ ذٰلِكَ سَوَاءٌ فِی النَّھْیِ)) ’’یعنی زمانۂ جاہلیت کے لوگ ایسے مقامات پر جاتے تھے جو ان کے گمان میں قابل احترام ہوتے تھے، وہ وہاں ان کی تعظیم و زیارت اور حصول برکت کے لیے جاتے تھے۔اس میں چونکہ غیراللہ کی عبادت کا دروازہ کھلتا ہے، اس لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بگاڑ کی اس جڑ کو (حکماً) بند کر دیا اور میرے نزدیک حق بات یہ ہے کہ قبر، کسی ولی کی عبادت گاہ اور کوہ طور، حکم ممانعت میں سب برابر ہیں، (یعنی سب کی طرف تقرب کی نیت سے سفر کرنا ممنوع ہے۔)‘‘ [3] 7 نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی ایسی جگہ پر اللہ کے لیے مانی ہوئی نذر کا جانور بھی ذبح کرنے سے منع فرمایا
[1] العقود الدریۃ، ص: 338. [2] صحیح البخاري، حدیث: 1189. [3] حجۃ اللّٰہ البالغۃ: 1؍192.