کتاب: توحید کی آواز - صفحہ 323
((اَللّٰھُمَّ!لَا تَجْعَلْ قَبْرِی وَثَنًا یُّعْبَدُ))
’’اے اللہ!میری قبر کو بت نہ بنا دینا جس کی پوجا کی جائے۔‘‘ [1]
اس سے معلوم ہوا کہ کسی قبر کو خاص طور پر قابل تعظیم سمجھنا، بار بار اس کی زیارت کے لیے آنا، یا نیاز دینے اور مدد لینے کے لیے وہاں حاضری دینا، اس قبر کو بت بنا دینے اور سمجھنے کے مترادف ہے جیسا کہ بہت سی قبروں کا یہی حال ہم دیکھ رہے ہیں۔
شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں:
((وَقَوْلُ النَّبِیِّ صلي اللّٰه عليه وسلم: اَللّٰھُمَّ لَاتَجْعَلْ قَبْرِی وَثَنًا... الحدیث، دَلِیلٌ عَلٰی أَنَّ الْقُبُورَ قَدْ تُجْعَلُ أَوْثَانًا وَّھُوَ صلي اللّٰه عليه وسلم خَافَ مِنْ ذٰلِكَ فَدَعَا اللّٰہَ أَنْ لَّا یَفْعَلَہُ بِقَبْرٍ وَّاسْتَجَابَ اللّٰہُ دُعَاءَہُ رَغْمَ أَنْفِ الْمُشْرِکِینَ الضَّالِینَ الَّذِینَ یُشَبِّھُونَ قَبْرَ غَیْرٍ بِقَبْرِہِ))
’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان: اے اللہ!میری قبر کو بت نہ بنانا سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلے قبروں کو بت خانہ بنایا جاتا تھا۔نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس بات سے ڈر گئے تھے، مبادا میری قبر بھی بت بن جائے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ سے دعا کی کہ میری قبر کے ساتھ ایسا نہ ہو اور اللہ تعالیٰ نے، گمراہ مشرکین کی خواہش کے خلاف، جو آپ کی قبر کو دوسرے (انبیاء) کی قبروں جیسا بنانے کے خواہش مند ہیں، آپ کی دعا قبول فرما لی ہے۔‘‘ [2]
ایک اور مقام پر امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
((وَھُمْ دَفَنُوہُ فِی حُجْرَۃِ عَائِشَۃَ رضی اللّٰه عنہ خِلَافَ مَا اعْتَادُوہُ مِنَ الدَّفْنِ فِی الصَّحْرَاءِ لِئَلَّا یُصَلِّیَ أَحَدٌ عِنْدَ قَبْرِہِ وَیَتَّخِذَہُ مَسْجِدًا فَیُتَّخَذَ قَبْرُہُ وَثَنًا))
’’اور نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خلاف معمول کسی کھلی جگہ دفن کرنے کی بجائے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے (چار دیواری) میں اسی لیے دفن کیا گیا تاکہ کوئی شخص وہاں آ کر ان کی قبر کے نزدیک نماز نہ پڑھے
[1] مسند أحمد: 246؍2، والمصنف لابن أبي شیبۃ: 3؍345.
[2] کتاب الرد علی الاخنائي علی ھامش ’الرد علی البکري‘ ص: 234.