کتاب: توحید کی آواز - صفحہ 322
((إِنَّ أُولٰئِكَ إِذَا کَانَ فِیھِمُ الرَّجُلُ الصَّالِحُ فَمَاتَ بَنَوْا عَلٰی قَبْرِہِ مَسْجِدًا وَّصَوَّرُوا فِیہِ تِلْكَ الصُّوَرَ، فَأُولٰئِكَ شِرَارُ الْخَلْقِ عِنْدَ اللّٰہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ))
’’بے شک یہ لوگ، جب ان میں سے کوئی نیک آدمی مر جاتا تھا تو وہ اس کی قبر پر سجدہ گاہ تعمیر کر لیتے تھے اور اس میں اس قسم کی تصویریں بنا لیتے تھے تو یہ لوگ قیامت کے دن اللہ عزوجل کے نزدیک مخلوق میں بدترین ہوں گے۔‘‘[1]
5 نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قبر مبارک کے بارے میں خاص طور پر حکم دیا:
((لَا تَجْعَلُوا قَبْرِی عِیدًا))’’تم میری قبر کو عید (میلے کی جگہ) نہ بنانا۔‘‘[2]
عید کے لفظی معنی ہیں، بار بار لوٹ کر آنا۔مسلمانوں کے دو ملی تہوار ہیں، عیدالاضحی اور عیدالفطر۔ان کو عید اسی لیے کہا جاتا ہے کہ یہ تہوار بھی ہر سال لوٹ کر آتے ہیں۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مطلب یہ تھا کہ جس طرح مشرکین اپنے بتوں کے سالانہ میلے مناتے ہیں، اس طرح تم میری قبر پر میلہ نہ لگانا کہ ہر سال اس میلے کے نام پر میری قبر پر چلے آؤ۔بعض شارحین نے اس کے معنی یہ لکھے ہیں:
’’میری قبر پر زیارت کے لیے اجتماع نہ کرنا جس طرح عید پر اجتماع کرتے ہو۔‘‘ [3]
اس کا مطلب بھی وہی میلوں ٹھیلوں کا اہتمام کرنا ہے۔اس سے شدت سے روک دیا گیا ہے کیونکہ اس سے بھی شرک ہی کی راہ ہموار ہوتی ہے، چنانچہ شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ اس حدیث کے بارے میں فرماتے ہیں:
((ھٰذَا إِشَارَۃٌ إِلٰی سَدِّ مَدْخَلِ التَّحْرِیفِ کَمَا فَعَلَ الْیَھُودُ وَالنَّصَارٰی بِقُبُورِ أَنْبِیَائِھِمْ وَجَعَلُوا عِیدًا وَّمَوْسِمًا بِمَنْزِلَۃِ الْحَجِّ))
’’اس فرمان سے دین میں تحریف کا دروازہ بند کرنا مطلوب ہے، مبادا یہ امت بھی یہود و نصاریٰ کی مانند اپنے بزرگوں کی قبروں کو حج کی طرح موسم اور عید کا مقام بنا ڈالے۔‘‘[4]
اسی لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو مذکورہ حکم دینے کے ساتھ ساتھ اللہ کی بارگاہ میں بھی یہ دعا فرمائی:
[1] صحیح البخاري، الصلاۃ، حدیث: 427.
[2] سنن أبي داود، المناسک، حدیث: 2042.
[3] عون المعبود شرح سنن أبي داود: 2؍171، طبع قدیم.
[4] حجۃ اللّٰہ البالغۃ: 2؍77، طبع مصر.