کتاب: توحید کی آواز - صفحہ 318
کرو گے۔‘‘ [1] اگر اس حدیث کا یہ مطلب ہو کہ اس امت میں شرک کا وجود ہی نہیں ہے تو پھر قرآن و سنت میں جو شرک سے ڈرایا گیا ہے اس کا کیا مطلب کہ ایک ایسی چیز سے ڈرایا جارہا ہے جس کا کوئی ڈر ہی نہیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿ وَاعْبُدُوا اللّٰهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا ﴾ ’’اور اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ۔‘‘ [2] نیز فرمایا: ﴿ قُلْ تَعَالَوْا أَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمْ عَلَيْكُمْ أَلَّا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا ﴾ ’’کہہ دیجیے!آؤ میں تلاوت کروں وہ جو تمھارے رب نے تم پر حرام کیا ہے یہ کہ تم اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ۔‘‘[3] سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صحابہ کا ایک گروہ موجود تھا تو آپ نے فرمایا: ((بَایعُونِی عَلٰی أَنْ لَّا تُشْرِکُوا بِاللّٰہِ شَیْئًا)) ’’تم مجھ سے اس بات پر بیعت کرو کہ تم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراؤ گے۔‘‘ [4] سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دیہاتی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کرنے لگا: آپ مجھے کوئی ایسا عمل بتائیں کہ جب میں وہ کر لوں تو میں جنت میں داخل ہو جاؤں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((تَعْبُدُ اللّٰہَ لَا تُشْرِكُ بِہِ شَیْئًا)) ’’تم اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ۔‘‘[5] سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے وصیت کی: ((أَنْ لَا تُشْرِكْ بِاللّٰہِ شَیْئًا، وَإِنْ قُطِّعْتَ وَحُرِّقْتَ)) ’’یہ کہ تم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا، خواہ تمھارے ٹکڑے کر دیے جائیں اور تمھیں جلا دیا جائے۔‘‘[6] 5 اگر شرک کا وجود اس امت میں ممکن ہی نہیں تو جن امور کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شرک قرار دیا ہے، اگر
[1] مسند أحمد: 2؍308. [2] النسآء 36:4. [3] الأنعام 151:6. [4] صحیح البخاري، الإیمان، حدیث: 18. [5] صحیح البخاري، الزکاۃ، حدیث: 1397. [6] سنن ابن ماجہ، الفتن، حدیث: 4034.