کتاب: توحید کی آواز - صفحہ 317
درست ہیں کیونکہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نہ شرک میں مبتلا ہوئے اور نہ پوری امت ہی شرک میں مبتلا ہوئی۔ ان معانی کی تائید دیگر احادیث سے بھی ہوتی ہے جن میں صحابۂ کرام کی شان و عظمت کا ذکر ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسے باصفا لوگ جنھوں نے ساری زندگی توحید کو کماحقہ سمجھا سمجھایا اور اس کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہوں شرک نہیں کر سکتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ((إِنَّ اللّٰہَ قَدْ أَجَارَ أُمَّتِی مِنْ أَنْ تَجْتَمِعَ عَلٰی ضَلَالَۃٍ)) ’’بے شک اللہ تعالیٰ نے میری امت کو اس بات سے محفوظ کر دیا ہے کہ وہ ساری گمراہی پر اکٹھی ہوجائے۔‘‘ [1] 3 ’’مجھے خوف اور خدشہ نہیں ہے کہ تم میرے بعد شرک کرو گے‘‘ کا مفہوم قطعاً یہ نہیں ہے کہ اس امت میں شرک نہیں ہوگا۔کلام عرب میں یہ انداز کلام کسی چیز کے قطعاً عدم وجود کے لیے استعمال نہیں ہوتا۔اس کی وضاحت درج ذیل مثال سے ہو جاتی ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ((فَوَاللّٰہِ لَاالْفَقْرَ أَخْشٰی عَلَیْکُمْ)) ’’اللہ کی قسم مجھے تمھارے بارے میں فقر کا ڈر نہیں ہے۔‘‘[2] یہ حدیث بالکل سچ اور حق ہے لیکن کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں کوئی شخص فقیر اور غریب نہیں ہوسکتا؟ ہرگز نہیں، یہ معنی خلاف واقعہ ہیں کیونکہ لاکھوں کلمہ پڑھنے والے آج بھی فقر کی زندگی گزار رہے ہیں بلکہ اس کی وجہ سے مر رہے ہیں۔یقین کے لیے افریقہ کے دور دراز علاقوں کی تصاویر اور ویڈیوز ملاحظہ کی جاسکتی ہیں۔ جس طرح اس حدیث کا یہ مطلب نہیں کہ اس امت میں فقر کا وجود نہیں ہوسکتا بالکل اسی طرح شرک والی حدیث کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اس امت میں شرک نہیں ہوسکتا۔اسی طرح ایک حدیث میں ہے: 4 ((مَا أَخْشٰی عَلَیْکُمُ الْخَطَأَ وَلٰکِنْ أَخْشٰی عَلَیْکُمُ الْعَمْدُ)) ’’مجھے تمھارے بارے میں یہ ڈر نہیں ہے کہ تم غلطی کرو گے بلکہ مجھے خطرہ ہے کہ تم جان بوجھ کر گناہ
[1] سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ للألباني، حدیث: 1331. [2] صحیح البخاري، الجزیۃ، حدیث: 3158، وصحیح مسلم، الزھد، حدیث: 2961.