کتاب: توحید کی آواز - صفحہ 256
امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’عراف‘‘ ایک جامع لفظ ہے جس کا اطلاق کاہن، نجومی، رمال اور اس طرح کے ان تمام لوگوں پر ہوتا ہے جو اپنے اپنے طریقوں سے بعض امور و واقعات کی خبر دیتے ہیں۔[1] سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ’’جو لوگ حروف ابجد لکھ کر حساب کرتے اور نجوم (ستاروں) سے رہنمائی لیتے ہیں میرے خیال میں ان کے لیے اللہ تعالیٰ کے ہاں آخرت میں کچھ نہیں۔‘‘[2]
[1] فتاویٰ ابن تیمیۃ: 173؍35. [2] المصنف لعبدالرزاق: 11؍26، والسنن الکبریٰ للبیھقي: 8؍139.