کتاب: ٹوپی و پگڑی سے یا ننگے سر نماز ؟ - صفحہ 35
ہوئے ہوں ،نمازیں پڑھو (شب زندہ داری کرو)‘‘ اور جب تم یہ کام کروگے تو: {تَدْ خُلُوْا الْجَنَّۃَ بِسَلَامٍ } (۴۱) ’’سلامتی کے ساتھ جنّت میں داخل ہو جاؤ گے۔‘‘ الادب المفردامام بخاری، ترمذی، مستد رک حاکم اور صحیح ابنِ حبّان میں حضرت عبد اﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہما سے مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: {اُعْبُدُ وْاالرَّحْمٰنَ ، وَ اَطْعِمُوْ ا الطَّعَامَ وَاَفْشُوْا السَّلَامَ} ’’اﷲ کی عبادت کرو، اور (محتاجوں کو) کھانا کھلاؤ، سلام عام کرو۔‘‘ اگر تم ایسا کروگے تو: {تَدْ خُلُوْا الْجِنَانَ } (۴۲) ’’تم جنّت میں داخل ہو جاؤ گے۔‘‘ سلام کہنے کی فضیلت و برکت کا اندازہ اس حدیث سے بھی ہو جاتا ہے جس میں ابو داؤد و ترمذی اور نسائی کی روایت کے مطابق حضرت عمر ان بن حصین رضی اﷲ عنہ بیان کرتے ہیں کہ: {جَآ ئَ رَجُلٌ اِلٰی النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَدَّ عَلَیْہِ ثُمَّ جَلَسَ، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَشْرٌ۔۔۔۔۔} ’’ایک آدمی نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور اس نے کہا اَ لسَّلَامُ عَلَیْکُمْآپ ﷺ نے اس کے سلام کا جواب دیا۔ پھر وہ شخص بیٹھ گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا ، دس نیکیاں۔‘‘ پھر دوسرا آدمی آیا اس نے کہا، اَ لسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰهِ ، آپ ﷺ نے اس کا جواب دیا، پھر وہ بیٹھ گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: بیس نیکیاں اور پھر ایک اور آدمی آیا تو اس نے کہا، َ لسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰهِ وَبَرْکَاْتَہ‘، آپ ﷺ نے اس کے سلام کا جواب دیا اور جب وہ بیٹھ گیا توآپ ﷺ نے فرمایا: تیس