کتاب: تحفۃ المتقین - صفحہ 265
’’جب تم مرغ کی اذان سنو تو اللہ سے اس کے فضل کی دعا کرو۔ کیونکہ وہ فرشتے کو دیکھتا ہے ۔اور جب تم گدھے کی آواز سنو تو کہو:اَعُوْذُبِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ۔
’ ’میں اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آتا ہوں شیطان مردود سے ۔‘‘ کیونکہ وہ شیطان کو دیکھتا ہے ۔‘‘
متفق عليه: رواه البخاري في بدء الخلق (3303)، ومسلم في الذكر والدعاء (2729).یعنی یوں کہوں (( اَللّٰھُمَّ اِنِّیٓ اَسْئَلُکَ مِنْ فَضْلِکَ))’’اے اللہ! میں سوال کرتاہوں تجھ سے تیرے فضل کا ۔‘‘
493۔ حضرت جابر بن عبد الله رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ : رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
’’جب تم رات کے وقت کتوں کے بھونکنے اور گدھوں کے ہنہنانے کی آواز سنو تو ان سے اللہ کی پناہ میں آنے کی دعا کرو کیونکہ یہ ایسی چیزیں دیکھتے ہیں جنہیں تم نہیں دیکھ پاتے۔‘‘
حسن: رواه أبو داود (5103)، وأحمد (14283)، والبخاري في الأدب المفرد (1234)، وابن حبان (5517- 5518)، والحاكم (4/283-284).
(4): باب: غصہ کے وقت کیا کہا جائے
494۔ حضرت سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ:
’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو آدمیوں نے آپس میں ایک دوسرے کو گالی دی ؛ان میں سے ایک کا چہرہ غصہ کی وجہ سے سرخ ہوگیا ۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آمی کی طرف دیکھا تو فرمایا : ’’ میں ایک ایسا کلمہ جانتا ہوں کہ اگر وہ اسے کہہ لے تو اس سے (غصہ کی یہ حالت) جاتی رہے ۔‘‘
(وہ کلمہ ہے) (( أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ ))۔
ایک آدمی اس آدمی کی طرف گیا؛ اور اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جو سنا؛ اس آدمی کوکہا کیا تو جانتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابھی ابھی کیا فرمایا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم