کتاب: تحفہ شیعیت - صفحہ 99
ہی نہیں ہے۔ بس یہ تو صرف عبد اللہ بن عباس کی شخصیت سے رمز ہے۔ اس دلیل کے رد میں ہم کہتے ہیں : یہ دلیل بالکل باطل ہے، اور اس سے اعتراض کرنے والے کی جہالت صاف ظاہر معلوم ہوتی ہے۔ اور اس دلیل کا باطل ہونا کئی وجوہات کی بنا پر جانا جاسکتا ہے : پہلی وجہ: …جن مؤرخین نے ابن سبا کا ذکر کیا ہے، انہوں نے اس کی شخصیت کا وجود بھی ثابت کیا ہے۔ اور عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ اس سے بالکل علیحدہ اور مستقل شخصیت ہیں۔ تاریخ طبری ان قدیم تاریخی مصادر میں سے ہے جنہوں نے ابن سبا کا ذکر کرتے ہوئے اسی ضمن میں اس کی خبریں،اور حضرت عثمان کے عہد میں خفیہ کرتوت اور سازشیں ذکر کی ہیں۔ جیساکہ مسلمانوں میں فاسد عقائد پھیلانے، اور شہروں میں لوگوں کو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اور امراء کے خلاف بھڑکانے کا ذکر کیاہے۔ انہوں نے ذکر کیاہے :’’ جب ابن سبا اور اس کے فتنہ پھیلانے کی خبریں آنے لگیں تو حضرت عثمان نے لوگوں کے حال جاننے کے لیے اپنے نمائندے شہروں میں بھیجے۔ ’’محمد بن مسلمہ کو کوفہ؛ عمار کو مصر اور عبد اللہ بن عمر کو شام کی طرف بھیجا۔ ‘‘[1] اور یہی بات ابن کثیر[2]اور ابن اثیر [3]نے بھی کہی ہے۔ سو طبری ؛ ابن کثیر اور ابن اثیر تینوں دو مختلف شخصیتیں ثابت کررہے ہیں : عبد اللہ بن سبا کی شخصیت اور حضرت عمار بن یاسر کی شخصیت۔ ایسے ہی ابن خلدون نے بھی یہی ثابت کیاہے، وہ کہتے ہیں : ’’عبد اللہ بن سبا المعروف ابن سوداء؛ یہودی تھا ؛ اس نے اسلام قبول کیا، اور حضرت عثمان کی خلافت میں ہجرت کی لیکن اس نے اپنے اسلام کو اچھی طرح ثابت نہیں کیا۔ … آگے فرماتے ہیں : ’’اس کے ساتھ خالد بن ملجم؛ اور سودان بن حمران؛ اور کنانہ بن بشر بھی تھے۔ انہوں نے حضرت عمار رضی اللہ عنہ کو مدینہ جانے سے روکا تھا۔‘‘[4] یہ کبار مؤرخین دو شخصیتیں ثابت کررہے ہیں، ایک ابن سبا جس کی ساری سر گرمیاں مسلمانوں میں فساد پیدا کرنے؛ اور لوگوں کو حضرت عثمان کے خلاف بھڑکانے کے لیے تھیں۔ اور دوسری شخصیت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ جن کو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ابن سبا کے اس فساد کے بعد لوگوں کے احوال جاننے کے لیے مصر بھیجا تھا۔ پھر کسی عاقل سے اس بات کی توقع کیسے کی جاسکتی ہے کہ وہ اب بھی یہی کہے کہ یہ دونوں ایک ہی شخصیت ہیں۔ [1] میزان الاعتدال ۲/۲۵۵۔ [2] تقریب التہذیب : ص ۲۶۲۔ [3] لسان المیزان ۳/ ۲۹۰۔ [4] تاریخ الطبری ۴/۳۴۰۔