کتاب: تحفہ شیعیت - صفحہ 92
وہ ابن سبا کے بارے میں اپنی رائے واضح کرتے ہوئے لکھتا ہے : ’’شاید کے سب سے بڑی تاریخی غلطی جو ان باحثین سے ہوئی اور جس معاملہ کی حقیقت ان پر پوشیدہ رہی اور وہ اس کو سمجھ نہ سکے ؛ اور نہ ہی اس کا ادراک کرسکے؛وہ جھوٹی روایات ہیں جو انہوں نے شیعہ علماء پر گھڑ لی ہیں۔ جیسا کہ انہوں نے جملہ جھوٹی حکایات میں سے ایک قصہ عبد اللہ بن سبا کا بھی گھڑ کر شیعہ پر تھوپ دیا ہے۔ ‘‘[1] ثالثاً : …مستشرقین میں ابن سبا کے وجود کے منکرین ۱۔ جرمن مستشرق :اسرائیل فرید لنڈر: [2] اسرائیل فرید لنڈر کا شمار ان پہلے پہل کے مستشرقین میں ہوتا ہے جنہوں نے عبد اللہ بن سبا کے مسئلہ پر پورے اہتمام سے توجہ دی اور مجلۃ آشوریہ[3] میں عبد اللہ بن سبا پر ایک تحقیقی مقالہ لکھا جوکہ اسی صفحات سے زیادہ ہے۔جس میں اس نے اسلامی مصادر سے اپنی تحقیق پیش کی ہے۔ اس نے ابن سبا کا قضیہ پیش کرتے ہوئے ان میں بعض مصادر میں نقل کی جانے والی ابن سبا کے متعلق روایات کی جانچ پڑتال کی ہے۔[4] پھر اس نے تعلیق لگاتے ہوئے کہا ہے : ’’ بے شک یہ قضیہ اپنی وافر تاریخی خبروں کے باوجود یہ روایتیں آپس میں اس طرح متناقض ہیں کہ ان کے درمیان جمع و تطبیق ممکن نہیں۔ یہ بات ملاحظہ کی جاسکتی ہے کہ سب سے پہلے : طبری کی روایات کے مطابق عبد اللہ بن سبا کا عقیدہ سب سے پہلے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق ہے جب کہ شہرستانی اور بغدادی کے مطابق اس کا عقیدہ صرف اکیلے علی بن ابی طالب ( رضی اللہ عنہ ) سے تعلق رکھتا ہے۔ ایسے ہی وہ آراء جو ابن سبا کی طرف منسوب کی جاتی ہیں، ان کا آپس میں بہت سخت اختلاف ہے۔ اوراس کا وہ بڑا سیاسی کردار جو طبری اس کی طرف منسوب کرتا ہے۔ جب کہ دوسرے دو مصادر نے اس سے پوری طرح غفلت برتی ہے۔ شہرستانی صرف ابن سبا ہی کے بارے میں بیان کرتا ہے ؛ جب کہ طبری [1] علی وبنوہ ص ۹۰۔ [2] نشأۃ الفکر الفلسفي في الإسلام ۲/۳۹۔ [3] نشأۃ الفکر الفلسفي في الإسلام ۲/۳۹۔ [4] نشأۃ الفکر الفلسفي في الإسلام ۲/۳۸-۳۹۔ [5] مقدمہ کتاب: ’’ عبد اللّٰه بن سبا و أساطیر أخری بقلم ڈاکٹر حامد حفنی ص ۲۱۔