کتاب: تحفہ شیعیت - صفحہ 87
کہ سیف نے ان کے بہت سارے حقائق میں تحریف کرتے ہوئے انہیں بدل ڈالا ہے۔ ان واقعات میں سے ’’حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کے لشکر کی روانگی‘‘ اور ’’مرتدین کے ساتھ جنگیں ‘‘اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا قتل ‘‘ اور ’’جنگ جمل ‘‘ کے واقعات ہیں۔ یہ جلد ان چودہ تاریخی واقعات کے بیان پر ختم ہوتی ہے، جن کے بارے میں عسکری کا گمان ہے کہ انہیں سیف بن عمرنے تبدیل کیااور حقائق کو مسخ کیاہے۔ جب کہ دوسری جلد:…اس جلد میں سیف بن عمر پر مزید تہمتیں رکھتے ہوئے چلاّتاہے۔ اور ان دو اسباب و وجوہات کا ذکر کرتا ہے جن کی وجہ سے سیف بن عمر نے بہت سارے واقعات گھڑے ہیں۔ وہ دو سبب یہ ہیں : پہلا سبب:… قبائلی تعصب اور عدنانیوں کو بزرگ وبرترسمجھنا۔ان کی نشرواشاعت، پھر وہ یمنی قحطانیوں کی ان کے ساتھ چپقلش ذکرکرتا ہے اور ان کے عیب بیان کرتا ہے۔ دوسرا سبب:… اس کی زندیقیت نے اسے تاریخ اسلامی میں تشویش برپا کرنے اور اس کے حقائق مسخ کرنے پر برانگیختہ کیا۔ اس لیے اس نے بہت سارے ناموں کو خلط ملط کردیا، اور ان کے واقعات واخبار بدل دیے ؛ ان تاریخی حادثات کی تاریخیں اور سال بدل دیے۔ اسی نے کہانیاں گھڑیں،حقائق کو بدلا؛ اور بہت ساری خرافات کو مسلمانوں کے عقائد میں داخل کردیا۔ پھر اس نے ایک خاص’’ فصل ‘‘ان شیعہ اور سنی محدثین کے بارے میں لکھی ہے جو عبد اللہ بن سبا کا ذکر کرتے ہیں اور اس فصل کا نام رکھا ہے : ’’ عبد اللّٰه بن سبا فی کتاب أہل الحدیث۔ ‘‘ ’’عبد اللہ بن سبا اہل حدیث کی کتابوں میں۔ ‘‘ اس فصل کو شیعہ کتب میں آنے والی روایات سے شروع کرتے ہوئے وہ پانچ روایات سند کے ساتھ ذکر کی ہیں جو کہ معروف کتاب ’’ معرفۃ اخبار الرجال ‘‘جو کہ ’’ رجال الکشی ‘‘ کے نام سے مشہور و معروف ہے ؛ میں موجود ہیں۔ پھر ان روایات پر رد کیا ہے ؛ اور کہا ہے کہ یہ اخبار سیف بن عمر کی روایات سے ہی چنی گئی ہیں۔ اور شیعہ کتب میں یہ روایات موجود ہونے کی علت یہ پیش کی ہے کہ انہوں نے یہ روایات رجال الکشی سے لی ہیں۔ پھر اس کے بعد ’’کشی ‘‘ پر اور اس کی کتاب پر طعن کیا ہے۔ اور اس کا کہنا یہ ہے کہ ’’کشی ‘‘ کی کتاب ان کے علماء کے ہاں غیر معتمد ہے۔ یا تو اس کتاب والے کی روایات ساقط( ناقابل اعتبار ) ہیں، اور ان میں کثرت سے غلطیاں واقع ہوئی ہیں۔ ‘‘[1] پھر اس نے اہل سنت کی کتابوں میں موجود عبد اللہ بن سبا کے متعلق روایا ت ذکر کی ہیں، اور پھر انہیں صرف کمزور ہی نہیں کہا بلکہ یہاں تک کہہ دیا کہ یہ جھوٹ ہیں بلکہ اہل سنت کے ائمہ حدیث کا اس بات پر ٹھٹھہ اڑانے لگا کہ انہوں [1] اصل الشیعۃ و أصولہا ص ۴۰-۴۱۔