کتاب: تحفہ شیعیت - صفحہ 83
منسوب کرنے میں ابن کثیرکی موافقت نہیں کی۔ لہٰذا اس قول میں کہ ابن سبا یمنی الاصل تھا؛ اوران باقی اقوال میں تعارض نہیں ہوسکتاجو تاریخ اور فرق کی کتابوں میں مشہور قول نقل کیا گیا ہے۔[1] تو اس بنا پر یہ بات راجح ہوتی ہے کہ ابن سبا ء یمن سے تھا۔اگرچہ میں واضح الفاظ میں اس کے قبیلہ کا تعین نہیں کرسکتا ؛ اس لیے کہ اس کے قبیلہ کے بارے میں مختلف اقوال ہیں۔ اور ان پر شافی دلائل میسر نہیں ہیں۔واللہ اعلم مؤرخین اور ’’فرقوں پرلکھنے والے ‘‘ مقالات نگاروں نے ابن سباکے اس کے باپ کی طرف منسوب کرنے پربھی اختلاف کیا ہے۔ ان میں سے بعض ابن سبا کو(حرب ) کی طرف منسوب کرتے ہیں، جیسا کہ جاحظ کا قول ہے۔ اس نے زحر بن قیس سے نقل کیا ہے ؛ وہ کہتا ہے : ’’ میں حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے مرنے کے بعد مدائن گیا، وہاں میری ملاقات ابن سوداء سے ہوئی ؛ یہی ابن حرب ہے۔‘‘ [2] جب کہ اکثر اہل علم ابن سبا کو اس کے باپ ’’سباء‘‘ کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ وہ اسے عبد اللہ بن سبا ہی کہتے ہیں۔ ان میں سے : ابن قتیبہ[3] ؛ طبری [4]؛ ابو الحسن الاشعری [5]؛ شہرستانی [6]؛ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ [7] ؛ اور شیعہ میں سے : الناشیء الاکبر [8]؛ اشعری قمی[9]؛ اور نوبختی[10]؛ شامل ہیں۔ جب کہ ابن سبا کا ماں کی طرف سے نسب ؛ وہ حبشن ماں سے تھا۔ [11] اسی لیے بعض علماء اسے ابن سوداء بھی کہتے ہیں۔ جیسے جاحظ نے البیان والتبیین۲/۸ میں لکھا ہے۔ اور طبری نے تاریخ میں ۴/۳۴۰ پر ؛ ذہبی نے تاریخ اسلام میں ۲/۱۲۲پر؛ مقریزی نے اپنی مخطط میں ۲/۳۵۶ پر لکھاہے۔ ابن سبا کے ماں کی طرف منسوب ہونے نے بعض علماء کے ہاں کئی اشکالات پیدا کیے۔ ان کا گمان ہے کہ ابن سوداء ابن سبا کے علاوہ کوئی دوسراشخص ہے۔ جیساکہ بغدادی کے بارے میں ابھی گزر چکا ہے۔ یہی اشکال اسفرائینی کے لیے بھی پیدا ہوا ہے، وہ لکھتے ہیں : ’’ ابن سوداء نے ابن سبا کی وفات کے بعد اس کے اقوال کی موافقت کی۔ ‘‘[12]
[1] تاریخ الطبری ۴/۳۴۰۔ [2] تاریخ مدینٹ دمشق ص ۱۶۵۔ [3] الفرق بین الفرق ص ۲۳۵۔