کتاب: تحفہ شیعیت - صفحہ 74
’’ او رکہیں گے کیا سبب ہے کہ (یہاں ) ہم ان شخصوں کو نہیں دیکھتے جن کو بُروں میں شمار کرتے تھے۔‘‘[1] محسن امین کہتا ہے : ’’ رافضہ ایک لقب ہے، جو ان لوگوں کے لیے بولا جاتا ہے جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کو خلافت میں مقدم رکھتے ہیں۔ اکثر یہ لفظ بطور انتقام تشفی کے لیے بولا جاتا ہے۔ اور جب عصبیت کی ہوا اٹھی تو اس نام کا اطلاق شیعہ تک ہی نہیں رہا ؛ بلکہ انتقام کی آگ نے انہیں اس بات پر مجبور کیا کہ:’’ اس بارے میں محبین اہل بیت اور ان سے موالات رکھنے والے جن کے متعلق وصیت ہے، اور جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ثقلین میں سے ایک قرار دیا ہے؛اورجن کے ساتھ تمسک رکھنے والا گمراہ نہیں ہوگا۔‘‘کہ [ان کی زبانی]رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایات گھڑی جائیں۔ جملہ مؤلفات میں یہ بات منتشر ہے کہ یہ لقب (رافضہ) زید بن علی بن حسین علیہ السلام کے زمانے میں پڑا ؛ جب کوفہ میں ان سے شیخین کے بارے میں پوچھا گیا ؛ تو انہوں نے کہا: ’’ وہ دونوں میرے دادا کے ساتھی ہیں، اورقبر میں ان کے ساتھ لیٹے ہوئے ہیں، اوراس سے مشابہ کچھ باتیں کیں۔ تو لوگوں نے ان کا ساتھ چھوڑ دیا ؛ تو اس وجہ سے ان کا یہی نام (رافضہ) پڑگیا۔ اور یہ بات کوئی بعید نہیں ہے کہ یہ بھی گھڑی ہوئی بات ہو۔‘‘[2] جب کہ دوسرے گروہ کا خیال ہے کہ ان کا نام رافضہ اللہ تعالیٰ نے رکھا ہے۔ نباطی کی کتاب ’’الصراط المستقیم إلی مستحقی التقدیم ‘‘ میں ہے: ’’ ابو بصیر نے صادق علیہ السلام [3]سے کہا : لوگ ہمیں رافضہ کا نام دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا : نہیں اللہ کی قسم ! لوگ تمہیں یہ نام نہیں دیتے، بلکہ اللہ تعالیٰ نے تمہارا یہ نام رکھا ہے۔ بے شک بنی اسرائیل کے ستر بہترین انسان حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کے بھائی پر ایمان لائے ؛ تو ان کا نام رافضہ رکھا گیا۔ تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کی طرف وحی کی، یہ نام تورات میں ان کے لیے لکھ دے، پھر اللہ تعالیٰ نے اسے ذخیرہ کر رکھا یہاں تک کہ تم لوگ اس راہ پر چلو۔‘‘[4] جو بات ان کے اس نام پر فخر کرنے کو ظاہر کرتی ہے وہ نباطی کا ذکر کردہ قصہ ہے۔ وہ کہتا ہے: ’’ عمار الدہنی[5] نے ابن ابی لیلیٰ[6] کے ہاں گواہی دی۔ [1] مقالات الإسلامیین ۱/ ۱۳۷۔ [2] اعتقادات فرق المسلمین و المشرکین ص ۵۲۔ [3] مجموع الفتاوی ۱۳/ ۳۶۔ [4] منہاج السنۃ ۱/ ۸۔