کتاب: تحفہ شیعیت - صفحہ 72
رافضیوں کے ہاں ناصبی کے نام سے پکارا جاتاہے۔ اور ان سے جو براء ت کا اظہار کرے وہ ’’رافضی‘‘ کہلاتا ہے۔ حسین الدرازی[1] اپنی سند سے محمد بن علی بن موسیٰ سے روایت کرتے ہیں ؛ وہ فرماتے ہیں : ’’ میں نے علی بن محمد علیہ السلام کو ناصبیوں کے متعلق خط لکھا ؛ کیا یہ اپنے امتحان[آزمائش کی گھڑیوں ] میں سرکش اور طاغوت ٭ کومقدم کرنے اور ان کی امامت کے درست ہونے کے اعتقاد سے بڑھ کر بھی کوئی چیز ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا :’’ جس کا یہ مذہب ہو، وہ ناصبی عقیدہ پر ہے۔ ‘‘[2] یہاں پر اس بات کی تاکید ہو جاتی ہے کہ رافضی ہر وہ شخص ہے جو حضرات ِ شیخین ابو بکروعمر رضی اللہ عنہما پر تبرا کرے اور اصحاب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کوبرا بھلا کہے۔ اوراس میں وہ لوگ پہلے درجہ میں شامل ہیں جن کا گمان یہ ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اسلام سے مرتد ہوگئے تھے؛اور پھر اس نظریہ کے تحت انہوں نے ان پر کفر کا فتویٰ لگایا۔واللہ تعالیٰ اعلم۔ رافضیوں پر اس اسم کا اطلاق کب ہوا؟ اور وجۂ تسمیہ : جمہور محققین اور بحث و تلاش کرنے والوں کی رائے یہ ہے کہ ان کا نام رافضی رکھے جانے کا زمانہ زید بن علی کا زمانہ ہے، جب انہوں نے ۱۲۱ ہجری میں ہشام بن عبد الملک بن مروان کے خلاف خروج کیا۔[3] اور اس وقت ان کے ایک لشکری نے جناب ِ حضرت ابو بکر اور عمر رضی اللہ عنہما پر طعن و تشنیع شروع کی۔ انہوں نے اس حرکت سے منع بھی کیا ؛ مگروہ لوگ باز نہ آئے۔ ابو الحسن اشعری فرماتے ہیں : ’’زید بن علی حضرت علی رضی اللہ عنہ کو باقی سب صحابہ پر فضیلت دیتے تھے۔ اور سیّدناابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما سے محبت رکھتے تھے۔ اورظالم حکمرانوں کے خلاف بغاوت کو جائز سمجھتے تھے۔ جب وہ کوفہ میں اپنے ان ساتھیوں کے ساتھ نکلے جنہوں نے ان کی بیعت کی تھی ؛ تو انہوں نے سنا کہ ان میں سے بعض جناب حضرت ابو بکر و حضرت عمر رضی اللہ عنہما پر طعن کررہے ہیں۔ انہوں نے جب اس کا انکار کیا، تو جن لوگوں نے آپ کی بیعت کی تھی آپ سے علیحدہ ہوگئے۔ تو آپ نے ان سے کہا : ’’ رفضتمونی‘‘…’’تم نے مجھے چھوڑ دیا ہے۔‘‘ [1] فیروز آبادی : القاموس المحیط : ۲/ ۳۳۲ : مادۃ (رفض) [2] قاضی ابو یعلی : طبقات الحنابلۃ : ۱/ ۳۳۔ [3] ابن تیمیہ : الصارم المسلول علی شاتم الرسول ص ۵۶۷۔ [4] ابن تیمیۃ : الصارم المسلول علی شاتم الرسول ص ۲/۲۴۵۔