کتاب: تحفہ شیعیت - صفحہ 66
سِفرایوب اس میں حضرت ایوب علیہ السلام پراللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والی آزمائشوں کا قصہ ہے۔ سفر ایوب کا شمار ادبی اسفار میں ہوتا ہے۔ سفر المزامیر اس سفر کا یہ نام اس لیے رکھا گیا ہے کہ اس میں گانوں کا ایک مجموعہ ہے، جنہیں ساز پر گا کر پڑھا جاتا ہے۔ ان میں سے بعض مزامیر یہودیوں کے ہاں دینی طبلے ہیں۔ اور بعض کا تعلق ان کی عیدوں سے ہے۔ ان میں سے اکثر مزامیر کی نسبت حضرت داؤد علیہ السلام کی طرف ہے اور بعض کی نسبت حضرت سلیمان علیہ السلام کی طرف ہے اور کچھ کی نسبت حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرف ہے۔ اسفار سلیمان(امثال، جامعہ،اناشید ): ان اسفار کو حضرت سلیمان علیہ السلام کی طرف منسوب کیا جاتا ہے۔ سفر امثال میں مثالوں کا ایک مجموعہ ہے۔ جن کے مابین کوئی ربط اورتعلق نہیں ہے۔ جس کی وجہ سے ان کا کسی ایک مولف کی طرف منسوب کرنا بعید از قیاس ہے۔ سفر جامعہ میں شعر و اشعار جیسا کہ کلام ہے، جنہیں حکمت بھرے اشعار بھی کہا جاتا ہے۔ سفر اناشید میں نغمے اور گانے ہیں، جو یہودی’’ عید أفصح ‘‘ کے دن گاتے ہیں۔ [1] اسفار انبیاء : اس سفر کے محتویات تقریبًا تقریبًا متشابہ ہیں۔ اس میں کبھی بنی اسرائیل کے اپنے معبودوں کے ساتھ سلوک کا ذکر ہے، اور کبھی انہیں اس سلوک کے نتیجہ میں اس جیسے ہی شر سے ڈرایا جاتا ہے۔ اور بعض میں ان کی حکومت گر جانے کی خبر ہے اوربعض میں بیرونی طاقتوں کے سامنے جھک جانے کی ترغیب ہے۔ ان اسفار کی انبیاء علیہم السلام کی طرف نسبت کچھ واضح نہیں ہے۔[2] اسفار عہد قدیم کی تاریخ کتابت ان اسفار کے لکھے جانے کی تاریخ متعین طور پرنہیں جانی جاسکتی۔ معاصر محققین میں سے بعض نے ’’لغت؛ان اسفار کے اسلوب ِ کتابت اوراس وقت کے سیاسی اور معاشرتی حالات ‘‘کی مدد سے ان اسفار کے لکھے جانے کی متعین تاریخ جاننے کی کوشش کی ہے۔ ان تمام باتوں کا خلاصہ مندرجہ ذیل صورت میں نکلتا ہے: [1] دیکھو: اظہار الحق ص ۹۶؛ از رحمت اللّٰه ہندی۔ د/ احمد شلبی : الیہودیۃ : ص ۲۳۵؛ سہیل دیب : التوراۃ تاریخہا و غایتہا : ص ۴۵۔ [2] د/ احمد شلبی : الیہودیۃ: ص۲۴۴۔