کتاب: تحفہ شیعیت - صفحہ 623
الدین الموسوي العاملی۔ اس زمانہ کے مسلمانوں کے بڑے علماء اور شیعہ کی عبقری شخصیات میں سے تھا۔ موصوف وقت کا ایک سرمایہ تھا، اور ایک بڑی نشانی تھا جس نے عصر حاضر کو روشن کردیا۔ اس صدی کے فخر کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ اس صدی میں ایسی نادر عبقری شخصیات پیدا ہوئیں …‘‘ ان کا بہت سارا علمی سرمایہ بھی ہے، جن میں سے کچھ ’’ مراجعات ‘‘ ہیں، جو ۱۳۵۵ ہجری میں طبع ہوچکے ہیں۔ اور کتاب ’’ الفصول المہمۃ في تاریخ الأمۃ ‘‘ ۱۳۳۰ ہجری میں طبع ہوچکی ہے۔ اور اس ۱۳۴۷ ہجری میں اس کی دوسری بار طباعت ہوئی۔ ان میں سے ہی ایک کتاب : ’’ أجوبۃ موسیٰ جار اللّٰه ‘‘بھی ہے ؛ جو ’’صیداء ‘‘ میں ۱۳۵۵ میں طبع ہوچکی ہے۔‘‘[1] ۷۶۔ عقائد الإمامیۃ محمد رضاء المظفر المتوفی ۱۳۸۳ ھجریۃ۔ آغا بزرگ طہرانی [مصنف کے متعلق ]کہتاہے: ’’ (پورا نام ):شیخ محمد رضا بن شیخ محمد بن شیخ عبد اللہ آلا مظفر نجفی ہے۔ جلیل القدر عالم اور معروف ادیب ہے۔اپنے والد کی وفات کے چھ ماہ بعد ۵ شعبان ۱۳۲۳ ہجری کو نجف میں پیدا ہوا۔ اس کے بھائیوں عبد النبی اور شیخ محمد حسن نے اس کی کفالت کی۔ ان کے ہاں ہی پرورش پائی، اور ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ صاحب موصوف بڑے افاضل اہل علم ؛ اور اہل ادب میں سے تھا۔ ابتدا ہی سے بڑی اچھی سیرت کا مالک تھا۔ اور اپنے سلوک کی وجہ سے اپنے جاننے والوں میں محبوب تھا۔ یہ ان چند لوگوں میں سے ہے جنہوں نے نجف میں فکری تحریک میں حصہ لیا، اور بہت سارے عام دینے مسائل میں مشغول رہا۔ اور اس کی کئی عمدہ کتابیں طبع شدہ ہیں، ان میں سے ’’السقیفۃ ‘‘ بھی ہے، جسے ۱۳۵۲ ہجری میں تالیف کیا، یہ دو بار طبع ہوچکی ہے۔ اور ایک کتاب منطق بھی ہے، اس کے تین اجزاء ہیں، یہ بھی مطبوع ہیں ؛ اور ایک کتاب عقائد ’’الشیعۃ‘‘ ہے، جو ۱۳۷۳ ہجری میں طبع ہوئی۔‘‘[2] ۷۷۔ الذریعۃ إلی تصانیف الشیعۃ۔ ۷۸۔ نقباء البشر في القرن الرابع عشر۔ ۷۹۔ طبقات أعلام الشیعۃ ؛(القرن الرابع): آغا بزرگ تہراني المتوفی ۱۳۸۹ ھجریۃ۔(یہ تینوں کتابیں ایک ہی مصنف کی ہیں ) محمد الحسین آل کاشف الغطاء نقباء البشر کے مقدمہ میں کہتا ہے : [1] اعیان الشیعۃ ۷/۴۲۵۔ [2] نقباء البشر في القرن الرابع عشر۲/۸۹۵۔ [3] نقباء البشر في القرن الرابع عشر۲/۶۱۲-۶۱۶۔