کتاب: تحفہ شیعیت - صفحہ 609
مجلسی نے (مصنف کی بابت) کہا ہے : ’’شیخ منتجب الدین مشاہیر ثقات اور محدثین میں سے ہے۔ اور اس کی کتاب فہرست شہرت کی انتہا کو چھور ہی ہے۔‘‘[1] ۴۳۔ الإحتجاج :تألیف أبي منصور أحمد بن علي بن ابي طالب الطبرسی المتوفی ۶۲۰ ھجریۃ۔ مجلسی کہتا ہے: ’’ الشیخ الجلیل، أبو منصور أحمد بن علی بن أبی طالب الطبرسي؛ کتاب ’’ الاحتجاج‘‘ کے مصنف۔ عالم و فاضل، محدث وثقہ ہیں۔ ہمارے پرانے جلیل القدر اصحاب میں سے ہیں۔‘‘[2] حر عاملی کہتا ہے: ’’ الشیخ ابو منصور احمد بن علی بن ابی طالب الطبرسی؛ عالم و فاضل، فقیہ ؛محدث وثقہ ہیں ؛ ان کی کتاب ہے : ’’الاحتجاج علی أہل اللجاج،؛ اچھی و کثیر الفوائد ہے۔‘‘[3] ۴۴۔ شرح نہج البلاغۃ :تألیف لأبي حامد عز الدین عبد الحمید بن ہبۃ اللّٰه بن أبي الحدید المتوفی ۶۵۵ ھجریۃ آغا بزرگ طہرانی [مصنف کا تعارف کراتے ہوئے ] کہتاہے: ’’شرح نہج البلاغہ عز الدین أبو حامد عبد الحمید بن ہبۃ اللّٰه بن أبي الحدید المعتزلی المتوفی ۶۵۵ ھجریۃ؛ ببغداد؛کی تالیف ہے۔ یہ بیس اجزاء میں ہے۔ یہ تمام اجزاء دو جلدوں میں ۱۲۷۰ ہجری میں ایران میں طبع ہوئے ہیں۔ اس کے بعد کئی بار مصر میں طبع ہوئی۔ مصنف نے اسے وزیر مؤید الدین ابو طالب، محمد المشہور بابن علقمی کے لیے لکھا تھا۔‘‘ [4] محمد ابو الفضل ابراہیم، ابن حدید کی کتاب ’’شرح نہج البلاغہ‘‘ کے مقدمہ میں لکھتا ہے: ’’ کتاب ’’نہج البلاغہ ‘‘ کا اہتمام بہت سارے علماء و فضلاء نے کیا ہے۔سید ھبۃ اللہ نے لکھا ہے کہ اس کی شروح پچاس سے زیادہ ہیں۔ لیکن ان شروح میں سب سے بڑی اور طویل شرح؛ جو علوم؛ آداب اور معارف کو شامل اور ن سے بھر پور شرح عز الدین عبد الحمید بن ابوالحدید المدائنی کی ہے۔اس نے یہ شرح وزیر مؤید الدین ابی طالب محمد بن احمد علقمی؛ مستعصم باللہ، آخری عباسی بادشاہ ؛کے وزیر ؛ کے طلب کرنے [1] فہرست أسماء علماء الشیعۃ ومصنفیہم ص ۱۴۴۔جامع الرواۃ ۲/۹۰۔ [2] مقدمۃ بحار الأنوار ص ۱۳۶۔ [3] جامع الرواۃ ۲/۱۵۵۔ [4] لؤلؤۃ البحرین ص۳۴۰-۳۴۱۔ [5] أمل الآمل۲/۱۹۴۔