کتاب: تحفہ شیعیت - صفحہ 597
مجلسی نے اس کتاب کی توثیق کرتے ہوئے کہاہے : ’’ تفسیر فرات ‘‘ اگرچہ ہمارے اصحاب نے اس کے مؤلف کے بارے میں مدح یا قدح سے تعرض نہیں کیا،لیکن اس کے واقعات اور تاریخوں کا ہم تک پہنچنے والی معتبر احادیث کے موافق ہونا ؛ اور اس کو نقل کرنے میں حسن ترتیب کی وجہ سے اس کے مؤلف کو ثقہ اور حسن ِظن حاصل ہے۔‘‘[1] مامقانی نے کہاہے : ’’فرات بن ابراہیم بن فرات الکوفی ؛شیخ ابو الحسن علی بن بابویہ کے مشائخ میں سے ہے۔ صدوق رضی اللہ عنہ نے اپنی کتابوں میں اکثر روایات حسن بن محمد بن سعید الہاشمی کی سند سے نقل کی ہیں ؛ اور وہ غالبًا حسین بن سعید سے نقل کرتا ہے، اوروہ مجاہد بن احمد بن علی الہمدانی سے نقل کرتا ہے۔ اور اس کی ایک تفسیر اخبار کی زبان میں ہے۔ جس کا غالب حصہ ائمہ اطہار کی شان میں ہے۔ یہ تفسیر عیاشی اور علی بن ابراہیم قمی کی ہم پلہ شمار ہوتی ہے۔‘‘[2] محمد فروی الاورد بادی نے تفسیر فرات پر اپنے مقدمہ میں کہا ہے : ’’ہمارے علماء کرام ہمیشہ اس تفسیرکی طرف رجوع کرتے رہے ؛ اس کتاب کے تصنیف کے وقت سے لے کر ہمارے آج کے زمانہ تک، جیساکہ ان متقدمین کی ورایات سے ظاہر ہے جنہوں نے مؤلف کے حالات زندگی تحریر کیے ہیں، اور اسے ثقہ کہا ہے۔‘‘[3] ۸۔ تفسیر القمي: تألیف لأبي الحسن علی بن إبراہیم المتوفی ۳۰۷ ھجریۃ مجلسی نے [مصنف کا تعارف کراتے ہوئے]کہاہے: ’’علی بن ابراہیم بن ہاشم ؛ ابو الحسن القمی ؛ امامیہ کے اجلہ راویوں میں سے ہیں۔ اور ان کے بڑے مشائخ میں سے ہیں، ان کے حالات زندگی لکھنے والوں نے ان کی جلالت اور ثقہ ہونے پراجماع ہے۔ نجاشی نے الفہرست میں [مصنف کے بارے میں ]کہاہے: ’’حدیث میں ثقہ، ثبت، معتمد ؛ صحیح المذہب ؛ انہوں بہت زیادہ (احادیث کی سماعت کی ہے) اور کئی کتابیں لکھیں درمیانی عمر میں ہی نابینا ہوگئے ؛ … اور مجلسی نے ان کی کتابوں میں کتاب التفسیر کو بھی شمار کیا ہے۔‘‘ [4] [1] مقدمۃ بصائر الدرجات بقلم العلامۃ کوجہ باغي ص:۶۔ [2] المرجع السابق۔ [3] الفہرست: ص:۱۰۵۔ [4] رجال العلامۃ الحلي ص ۷۸۔ [5] مقدمۃ بحار الأنوار ص۱۸۶-۱۸۷۔