کتاب: تحفہ شیعیت - صفحہ 595
اسی لیے اکثر محدثین نے اس پر اعتماد کیا ہے، اگرچہ وہ سارے کے سارے اعتماد کرنے والے نہیں، وجہ یہی ہے جو ذکر کی جاچکی ہے بلکہ یہ بات بہت سارے محدثین کے حق میں کہی گئی ہے، مگر اس کے ساتھ ہی ان کی روایت پر اعتماد کیا گیا ہے۔‘‘[1] ۴۔ (الغارات ) أو الاستنفار والغارات : لأبي اسحٰق ابراہیم بن محمد بن سعید بن ھلال المعروف بابن ہلال الثقفي المتوفی ۲۸۳ ھجریۃ۔ طوسی [مصنف کا تعارف کراتے ہوئے]کہتاہے: ’’ابراہیم بن محمد بن سعید بن ھلال بن عاصم بن سعد بن مسعود الثقفي رضی اللّٰه عنہ، کوفی الاصل ہیں۔ حضرت علی علیہ السلام نے انہیں مدائن کا گورنر بنایاتھا۔پہلے زیدیہ تھے، پھر امامت کا قول اختیارکیا۔ ان کی بہت ساری تصنیفات ہیں، ان میں سے : ’’کتاب المغازی؛ اور کتاب التصفیۃ؛ اور کتاب الردۃ؛ اور کتاب مقتل عثمان ‘‘ ہیں۔‘‘ [2] مامقانی نے اس کو توثیق کی ہے اور کہا ہے : ’’ اور ان کی کتب کی کثرت اس کو تقویت دیتی ہے۔ اور شیخ رضی اللہ عنہ کا فہرست کے شروع میں ’’ رضی اللہ عنہ ‘‘ کہنا؛ اور آخر میں رحمہ اللہ کہنا؛(بھی اس کو تقویت دیتا ہے) فاضل مجلسی نے ’’الوجیزہ‘‘ میں کہا ہے کہ :’’ ان کی خوبیاں بہت زیادہ ہیں۔ اور ابن طاؤس نے اس کی توثیق کی ہے۔ او رحق بات یہ ہے کہ اس آدمی کے متعلق تمام خبریں صحیح ہیں۔‘‘ واللہ اعلم [3] ۵۔ بصائر الدرجات الکبری في فضائل آل محمد علیہ السلام۔ تألیف : الثقۃ الجلیل ؛ والمحدث النبیل : أبي جعفر محمد بن الحسن بن فروخ (الصفّار) المتوفی ۲۹۰ ھجریۃ؛ من أصحاب الإمام الحسن العسکری۔ طوسی [مصنف کا تعارف کراتے ہوئے]کہتاہے: ’’محمد بن حسن الصفار القمی کی کتابیں ’’ حسین بن سعید‘‘ کی کتابوں جیسی ہیں۔ اور کتاب بصائر الدرجات وغیرہ زیادہ ہیں۔‘‘[4] مجلسی نے نجاشی سے صفار کے حالات زندگی نقل کیے ہیں، وہ کہتا ہے : ’’ قمیوں میں توجہ کا مرکز تھا۔ ثقہ اور عظیم القدر؛ راجح؛ اور روایت میں قلیل السقط تھا۔‘‘[5] [1] الفہرست: ص:۴۸۔ [2] رجال العلامۃ الحلي ص ۱۴؛ جامع الرواۃ للأردبیلی ۱/۶۳۔ [3] مقدمۃ بحار الأنوار ص۱۲۴۔