کتاب: تحفہ شیعیت - صفحہ 593
اورایسے ہی مجلسی کہتا ہے : سلیم بن قیس کی کتاب شہرت کی بلندیوں کو چھورہی ہے۔ ایک جماعت نے اس میں طعن بھی کیا ہے مگر حق یہ ہے کہ یہ کتاب معتبر اصولوں میں سے ہے۔ ایسے ہی بہت سے شیعہ علماء نے اس کتاب اور اس کے مصنف کی مدح سرائی اور توثیق کی ہے۔ [1] اردبیلی کہتا ہے : سلیم بن قیس الہلالی، ثم العامری الکوفی ؛ امیر المومنین علیہ السلام کے اصحاب میں سے ہے۔ ’’الکشی ‘‘ نے روایت کیا ہے کہ اس کی احادیث اس کے شکریہ پر، اور کتاب کی صحت پر گواہ ہیں۔‘‘[2] ارد بیلی نے ابان بن عیاش سے روایت کیا ہے ؛ بے شک اس نے سلیم بن قیس کے متعلق کہا ہے: ’’وہ بڑا عبادت گزار شیخ تھا؛ اور اس کا نور اس سے بلند ہورہا تھا۔‘‘ [3] مجلسی نے علامہ محلی سے نقل کرتے ہوئے ’’بحار ‘‘ کے مقدمہ میں ؛ سلیم بن قیس کے بارے میں اپنے علماء کے اقوال نقل کرنے کے بعد کہا ہے : ’’اس کا سبب میرے نزدیک مشار الیہ (سلیم بن قیس ) کی تعدیل ہے۔ اور اس کی کتاب میں موجود فاسد چیزوں سے توقف کرنا ہے۔‘‘[4] نیز مجلسی صاحب کہتے ہیں : ’’ علامہ محقق داماد نے ’’ الرواشح‘‘ (کتاب کا نام) میں اسی کی اتباع کی ہے۔ اور اس پر ثقہ اور عادل ہونے کا حکم لگایا ہے۔ اور مصنف نے اسے اپنی کتاب ’’ الغیبۃ‘‘ میں عظیم ثقات، اور چوٹی کے علماء شیعہ میں شمار کیا ہے۔ اگرچہ بعض نے اس کی کتاب کی وجہ سے اس میں توقف بھی کیا ہے۔[5] ۲۔ الإیضاح: تألیف الشیخ ابو محمد ابو الفضل بن شاذان الأزدي النیسابوري متوفی ۲۶۰ ہجریۃ طوسی نے [مصنف کا تعارف کراتے ہوئے ] کہا ہے : ’’فضل بن شاذان نیشاپوری جلیل القدر متکلم ہے۔ اس کی کئی کتابیں اور تصنیفات ہیں۔ ان میں سے’’ کتاب الفرائض الکبیر؛ کتاب الفرائض الصغیر ؛ کتاب الطلاق ؛ اور ’’کتاب المسائل الأربعۃ في الإمامۃ‘‘ ہیں۔‘‘[6] ارد بیلی کہتا ہے : ’’فضل بن شاذان نیشاپوری ؛ اس کی کنیت ابو محمد تھی، جلیل القدر فقیہ اور متکلم ہے۔ اس گروہ میں اس کی بڑی شان ہے۔ کہا گیا ہے کہ : ’’ اس کی دو سو اسی سے زیادہ کتابیں ہیں۔ اس کے لیے ابو محمد علیہ السلام نے دو بار رحم کی دعا کی ہے۔‘‘[7] [1] رجال الکشي ص ۶۸۔ [2] رجال الکشي ص ۶۱۔ [3] مقدمۃ بحار الأنوار :۱۸۹-۱۹۱۔ [4] تنقیح المقال۲/۵۴۔ [5] مقدمۃ کتاب سلیم بن قیس ۴۔