کتاب: تحفہ شیعیت - صفحہ 564
یہ بات صحیح نہیں ہے۔ اس لیے کہ وہ ہر حال میں تقیہ استعمال کرتے ہیں ؛ خواہ خوف کی حالت میں ہوں یا امن کی حالت میں، بلکہ وہ اسے اپنا شعار [امتیازی علامت ]بناتے ہیں۔جیسا کہ طوسی نے صادق سے روایت کیا ہے، وہ کہتا ہے : ’’وہ ہم میں سے نہیں ہے جو اسے اپنا شعار اور اپنا اوڑھنا [بچھونا ] [1] نہ بنائے۔ ان لوگوں کے ساتھ جن سے امن میں ہو، تاکہ یہ ان لوگوں کے ساتھ بھی عادت بن جائے جن سے خوف محسوس ہوتا ہو۔‘‘[2] اور اس پران کے افعال بھی دلالت کرتے ہیں، اس لیے کہ یہ لوگ ہر چیز میں اور ہر وقت تقیہ استعمال کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ تقیہ ان کی ایک امتیازی نشانی بن گیا ہے۔ جیسا کہ اس پر یہ روایت شاہد ہے۔ ان کی اکثر روایات اسی پر دلالت کرتی ہیں، ابو عبد اللہ سے روایت ہے انہوں نے کہا ہے: ’’تقیہ سے بڑھ کر کوئی چیز میری آنکھوں کی ٹھنڈک نہیں ہوسکتی، بے شک تقیہ مومن کی ڈھال ہے۔‘‘[3] یہ لوگ تقیہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ؛ اور ان کے بعد ان کے بیٹوں کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ مجلسی نے ابو عبد اللہ سے روایت کیا ہے ؛ وہ کہتا ہے : یہ آیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی : ﴿اِدْفَعْ بِالَّتِیْ ہِیَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِیْ بَیْنَکَ وَبَیْنَہُ عَدَاوَۃٌ کَأَنَّہُ وَلِیٌّ حَمِیْمٌ ﴾ (فصلت:۳۴) ’’ایسے طریق سے جواب دو جو بہت اچھا ہو (ایسا کرنے سے تم دیکھو گے) کہ جس میں اور تم میں دشمنی تھی گویاوہ تمہارا گرم جوش دوست ہے۔‘‘ تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے تقیہ کا حکم دیا گیا ہے۔وہ ایک دہائی تک اس پرعمل کرتے رہے، یہاں تک کہ حکم دیا گیا کہ: ’’جس چیز کا حکم دیا گیا ہے، اسے کھول کر بیان کرے۔‘‘ اور اس کا حکم علی علیہ السلام کو دیا پھر اسی پر عمل پیرا رہے ؛ حتی کہ حکم دیا گیا : اسے کھول کر بیان کرے۔ پھر ائمہ آپس میں ایک دوسرے کو اس کا حکم دیتے رہے اور اسی پرعمل پیرا رہے۔ جب ہمارا قائم نکلے گا،اس وقت تقیہ ساقط ہوجائے گا؛ اور تلوار کھینچ لے گا ؛ اور لوگوں سے نہ ہی لے گا اور نہ ہی ان کو دے گا سوائے تلوار کے۔‘‘[4] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی پرآپ کے اہل بیت پر یہ بہت بڑاالزام اور بہتان ہے۔ اگر ہم تسلیم کرلیں کہ اہل بیت کو حکمرانوں کا خوف ہے۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کوکس کا خوف ہے اور کس سے بچنا چاہتے ہیں۔ آپ ہی تھے جو قریش اور اس کے سر کشوں کے خلاف کھڑے ہوئے، اور ان سے ٹکرائے، اوران کے دین [1] المحاسن ص: ۲۲۰۔