کتاب: تحفہ شیعیت - صفحہ 552
’’ یہودی کواس بات کی اجازت ہے کہ وہ عیسائی مریض کی تیمار داری کرے۔ اور ان کے مردوں کو دفن کرے۔[یہ اس وقت ہوگا]جب انہیں ان عیسائیوں سے تکلیف پہنچنے کا اندیشہ ہو۔‘‘[1] اور یہودیوں کی منافقت کا ایک اسلوب یہ ہے کہ دوسرے دین کے قبول کو ظاہر کرنا ہے تاکہ اس دین کے ماننے والوں کو دھوکا دے سکیں، اور ان کے خلاف سازش کرسکیں۔ تلمود میں ہے : ’’ جب یہودی اس بات کی استطاعت رکھتا ہوکہ وہ بت پرستوں کو یہ کہہ کر دھوکا دے کہ وہ ستاروں کا پجاری ہے، تو اس کے لیے ایسا کرنا جائز ہے۔‘‘[2] اللہ تعالیٰ نے ان کے اس یہودی اسلوب کے بارے میں اپنی کتاب میں خبر دی ہے ؛ جس کا برتاؤ وہ مسلمانوں کے ساتھ کرتے تھے۔ اور یہ اس طرح کہ جب ان سے ملتے تو ایمان کا دعویٰ کرتے ؛ اور جب ان سے جدا ہوجاتے تو ان کے خلاف سازشیں کرتے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ﴿وَ اِذَا لَقُوْا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قَالُوْٓا اٰمَنَّا وَ اِذَا خَلَا بَعْضُہُمْ اِلٰی بَعْضٍ قَالُوْٓا اَتُحَدِّ ثُوْنَہُمْ بِمَا فَتَحَ اللّٰہُ عَلَیْکُمْ لِیُحَآجُّوْکُمْ بِہٖ عِنْدَ رَبِّکُمْ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ ﴾ (البقرہ:۷۶) ’’ اور یہ لوگ جب مومنوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے ہیں اور جس وقت آپس میں ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ جو بات اللہ نے تم پر ظاہر فرمائی ہے وہ تم ان کو اس لیے بتائے دیتے ہو کہ (قیامت کے دن ) اُسی کے حوالے سے تمہارے رب کے سامنے تمہیں الزام دیں کیا تم سمجھتے نہیں ؟‘‘ اس مکر اور دھوکے بازی میں آگے بڑھنے کے لیے حاخام اپنے ماننے والوں کے لیے جھوٹی قسم اٹھانا جائز قرار دیتے ہیں۔اوریہودیوں کا خیال ہے کہ اس میں ان کے لیے کوئی گناہ نہیں ہے ؛ جب کہ یہ قسم یہودی مصلحت کی خاطر غیر یہودی کے سامنے اٹھائی جائے۔ تلمود میں آیاہے : ’’ یہودی کے لیے جائز ہے کہ وہ جھوٹی قسم اٹھائے، خاص کر جب کہ دوسری قوموں کے ساتھ ہو۔‘‘[3] اور ایک دوسری نص میں ہے : ’’ یہودی پر واجب ہے کہ وہ بیس جھوٹی قسمیں اٹھائے اور اپنے کسی یہودی بھائی کوکوئی تکلیف نہ پہنچنے دے۔‘‘[4] یہ وہ بعض اسلوب ہیں جو حاخاموں نے اپنے ماننے والوں کے لیے ایجاد کیے ہیں، تاکہ ہر زمانے اور ہر جگہ کے [1] ہمجیۃ التعالیم الصہیونیۃ ص: ۷۲۔ [2] تفسیر ابن کثیر ۴/ ۳۲۳۔ بخاری /کتاب استتابۃ المرتدین : باب : إذا عرض الذمي او غیرہ بسب النبي صلي الله عليه وسلم ؛ مع فتح الباری ۱۲/ ۲۸۰۔ [3] فضح التلمود ص: ۱۲۶۔