کتاب: تحفہ شیعیت - صفحہ 519
لگے : آج کا دن۔ پھر فرمایا: کون سا مہینہ بڑی حرمت والا ہے ؟کہنے لگے : یہ مہینہ۔ پھر فرمایا: کون سا شہر بڑی حرمت والا ہے ؟کہنے لگے : یہ شہر۔ آپ نے فرمایا:بے شک تمہارے خون اور تمہارے اموال تم پر ایسے ہی حرام ہیں جیسے تمہارے آج کے دن کی حرمت اس شہراور اس مہینہ میں اس دن تک کے لیے ہے ؛ جس دن تم اپنے رب سے ملوگے،اوروہ تم سے تمہارے اعمال کے بارے میں سوال کرے گا۔ کیامیں نے تم تک یہ بات پہنچادی ہے؟کہنے لگے : ہاں۔ تو آپ فرمایا: اے اللہ ! گواہ رہنا۔‘‘[1] اب یہودیوں اور رافضیوں کا کیا جواب ہے کہ ہم نے ان کے اس فاسد عقیدہ کے باطل ہونے پر خود ان کی کتابوں سے دلائل پیش کردیے ہیں۔ اب ان کے لیے اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں کہ حق کی اتباع کرتے ہوئے ان نصوص کے مقتضی کے مطابق عمل کریں جن کے سچا ہونے کی گواہی قرآن کریم اور سنت نبوی نے دی ہے۔ اور ان من گھڑت نصوص و احکام کو ترک کردیں جنہیں شیاطین نے ان کے لیے گھڑ لیا ہے؛ وہ نصوص جو انہیں بے گناہ لوگوں کا خون بہانے اور معصوم لوگوں کو ناحق قتل کرنے پر ابھارتی ہیں۔ رہا یہوداور روافض کا اپنے مخالفین کے مال کو مباح سمجھنا ؛ یہ ان فاسد عقائد میں سے ہے جن کے باطل ہونے پر کتاب وسنت اور خود ان کی کتابیں دلالت کرتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کا مال ناحق کھانا حرام کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿ یٰٓأَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْکُلُوْٓا اَمْوَالَکُمْ بَیْنَکُمْ بِالْبَاطِلِ اِلَّآ اَنْ تَکُوْنَ تِجَارَۃً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْکُمْ وَ لَا تَقْتُلُوْٓا اَنْفُسَکُمْ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِکُمْ رَحِیْمًا o وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِکَ عُدْوَانًا وَّ ظُلْمًا فَسَوْفَ نُصْلِیْہِ نَارًا وَ کَانَ ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ یَسِیْرًاo﴾ (النساء: ۲۹۔ ۳۰) ’’ مومنو! ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ، ہاں اگر آپس کی رضامندی سے تجارت کا لین دین ہو (اور اس سے مالی فائدہ ہو جائے تو وہ جائز ہے) اور اپنے آپ کو ہلاک نہ کرو کچھ شک نہیں کہ اللہ تم پر مہربان ہے۔ اور جو تعدی و ظلم سے ایسا کرے گا ہم اُس کو عنقریب جہنم میں داخل کریں گے اوریہ اللہ کو آسان ہے۔‘‘ حقیقت میں ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے یہودیوں کے بارے میں خبر دی ہے کہ وہ لوگوں کا مال باطل حیلوں بہانوں سے کھاتے ہیں۔ اور سود لیتے ہیں، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں ایسا کرنے سے منع کردیا تھا۔ تویہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر دنیا کی زندگی میں کئی پاکیزہ چیزیں حرام کرکے تنگی پیدا کرنے کا سبب تھا۔اور جو کچھ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے آخرت میں دردناک عذاب تیار کرر کھا ہے وہ اس کے علاوہ ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : [1] فتح الباری ۱۲/ ۱۸۷؛ ح: ۶۸۶۲۔ [2] سفر الخروج، اصحاح ۲۰؛ فقرات ۱۳-۱۵۔