کتاب: تحفہ شیعیت - صفحہ 510
دہلی میں بہادر شاہ ظفر رحمہ اللہ کی حکومت ختم کرنے کے لیے میرزا رجب بیگ نے قلعہ کے اندر غداری کرتے ہوئے انگریزوں کا ساتھ دیا اور بادشاہ کو گرفتار کروادیا۔ مختلف ادوار میں جب بھی اور جہاں بھی انہیں موقع ملا ہے انہوں نے اسلام اور مسلمانوں کو تکلیف پہنچانے میں کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہیں کیا اور مسلمان ملکوں میں بھی مسلمانو ں کا قتل عام مچاتے رہے۔ خانہ کعبہ پر قبضہ، حجر اسود نکال کر لے جانا، اوراس حجر اسود کا بیس سال تک شیعوں کے ہاں ؛ اور مصر کی فاطمی شیعہ حکومت کی طرف سے روضۂ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کے جسد مبارک کو نکال کر مصر لے جانے کی کوشش کرنا۔ ایرانی شیعوں کی مکہ مکرمہ میں ہنگامہ آرائی اور بیت اللہ میں، مکہ کی حرمت کو پامال کرتے ہوئے حجاج پر چھریاں چلانا، اور مدینہ منورہ میں ہنگامے کھڑے کرنا یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ اس پر ہر عقل مند اور باشعور انسان کو غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے۔ کہ اگر یہ لوگ کافر ملک میں رہتے ہوئے ہنگامہ و فساد نہیں کرتے،اور یہودو نصاریٰ کے قتل سے گریز کرتے ہیں توپھر مظلوم اہل سنت مسلمانوں کا کیا قصور ہے جو انہیں قتل کرتے ہیں ؟ اورمسلمان حکومتوں نے ان پر کون سا ظلم کیا ہے کہ ان کے خلاف ہنگامہ آرائی کرتے ہیں اور انہیں ختم کرنے کی کوششیں کرتے ہیں ؟ اصل بات تویہ ہے کہ ان کا عقیدہ ہی مسلمانو ں کو تکلیف دینے میں ثواب ؛ اور ان کے مال و خون کے مباح ہونے کا ہے تو پھر کون سی چیز ان کی راہ میں حائل ہوسکتی ہے۔ مترجم]] تیسری بحث :…یہود و روافض کی غیروں کی تکفیر اور ان کا مال و خون کے مباح جاننے میں وجوہ ِ مشابہت اس عقیدہ میں یہودیوں اور رافضیوں کے ہاں بہت بڑا اتفاق پایا جاتا ہے۔ یہودیوں اور رافضیوں میں سے ہر ایک اپنے علاوہ باقی لوگوں پر کافر ہونے کا فتویٰ لگاتا ہے۔ اور ان کا مال اور خون حلال سمجھتا ہے۔ ان کا عقیدہ ہے کہ ان کے علاوہ باقی لوگوں کی کوئی حرمت نہیں ہے، جیسا کہ اس پر سابقہ نصوص دلالت کرتی ہیں جنہیں میں نے دو علیحدہ علیحدہ مباحث میں یہودیوں اور رافضیوں کے اہم ترین اور ثقہ مصادر سے نقل کیاہے۔ ان (یہود اور روافض) کے مابین اتفاق و اتحاد کو مندرجہ ذیل نکات میں بیان کیا جاسکتاہے: ۱۔ ’’یہودی اپنے تمام مخالفین کو کافر کہتے ہیں اور ان کا عقیدہ ہے کہ وہ تمام بت پرست ہیں،اور صحیح دین پر نہیں ہیں۔ ‘‘ تلمود میں آیا ہے : ’’ یہودیوں کے علاوہ جتنی بھی امتیں ہیں [سب ] بت پرست ہیں، حاخاموں کی تعلیمات اسی کے مطابق ہیں۔‘‘ اور رافضی بھی اپنے تمام مخالفین کو کافر کہتے ہیں۔ اور گمان کرتے ہیں کہ ان کے علاوہ کوئی بھی ملت ِ اسلام پر نہیں [1] مجموع الفتاوی ۲۸/ ۴۸۰۔ [2] مجموع الفتاوی ۲۸/ ۴۸۴۔