کتاب: تحفہ شیعیت - صفحہ 50
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت خیبر پہنچے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رات گزاری اورپھر صبح ان کی طرف متوجہ ہوئے۔ انہیں خیبر کے کچھ زمیندار وغیرہ ملے جو اپنے کھیتوں کی طرف نکلے تھے۔ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتے ہی کہنے لگے : ’’محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اور ان کے ساتھ لشکر، وہ بھاگتے ہوئے واپس پلٹے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نعرہ لگایا : ’’ اللہ اکبر! خیبر خراب ہوگیا ؛ جب ہم کسی قوم کی زمین پر اترتے ہیں تو ان کی صبح بری ہوتی ہے۔ ‘‘[1] پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کا ایک ایک قلع فتح کرنے لگے اور ان کے اموال اپنے قبضہ میں لینے لگے۔ یہاں تک کہ جب یہودیوں کو اپنی ہلاکت کا یقین ہوگیا تو انہوں نے جان کی امان پانے کے لیے جلاوطن ہونا منظور کر لیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا۔‘‘[2] معرکہ خیبر کی انتہاء کے ساتھ ہی جزیرۂ عرب سے یہودی اثر و نفوذ ختم ہوگیا، اس کے بعد جزیرہ عرب کی سیاست میں ان کا کوئی قابل ذکر کردار نہ رہا۔ تیسرا مرحلہ :… وفات ِرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ان کی مکاریاں و چال بازیاں : یہودیوں کو اس بات کا اچھی طرح اندازہ ہوگیا تھا کہ جب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کے درمیان موجود ہیں ؛ ان میں اسلام سے آنکھیں چار کرنے کی ہر گز کوئی طاقت نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کو یہودیوں کی ہر چال سے با خبر کردیتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی بار یہود کی مکاریوں کو طشت از بام کرکے انھیں رسوا کیا۔ اور ایسے ہی بسا اوقات وحی نازل ہوتی، اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بھی اور مسلمانوں کے لیے بھی یہود سے بچ کر رہنے کی تنبیہ ہوتی۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انتقال فرما گئے تو یہود نے بھانپ لیا کہ اب وقت آگیا ہے کہ اسلام کے خلاف دوبارہ نئے سرے سے چالیں چلی جائیں۔انہوں نے مسلمانوں کو اپنے دین سے پھیرنے اور ان کے مابین فتنہ پیدا کرنے کے لیے سازشوں کا جال بچھانا شروع کیے۔ اس مرحلے میں یہودیوں کی سازشیں گزشتہ مرحلہ کی نسبت بہت ہی زیادہ باریک بینی سے تیار کی گئی تھیں۔ جس سے ان کے بعض خبیث خواب بعض وجوہات کی بنا پر شرمندہ تعبیر ہوئے، ان [ اسباب ] میں سے : ۱۔ مسلمانوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا غائب ہوجانا۔ ۲۔ یہودیوں کا سابقہ سازشوں سے سبق حاصل کرنا، جس کی وجہ سے ان کا مکروفریب اور خباثت اور بڑھ گئے تھے۔ ۳۔ بعض یہودیوں کا سازشیں کرنے او رمسلمانوں کی جاسوسی کرنے کے لیے مسلمانوں کی صفوں میں داخل ہوجانا۔ اسلام کے خلاف یہودی سازشوں کی تاریخ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے آج تک چلی آرہی ہے۔ ان کا احاطہ [1] انظر : ابن کثیر : السیرۃ النبویۃ ۳/۳۴۸۔ [2] انظر : ابن ہشام : السیرۃ النبویۃ ۳/۱۱۶۵۔